لاہور: پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 167 میں ضمنی انتخاب کے بائیکاٹ کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے اندر واضح اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جس سے پارٹی کی اندرونی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی پی 167 کے ضمنی انتخاب میں حصہ نہ لینے کے فیصلے پر تحریک انصاف دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیاسی کمیٹی کو اس حلقے میں بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ رہنماؤں کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بائیکاٹ کی ہدایت صرف ان حلقوں کے لیے دی گئی تھی جہاں منتخب ارکان کو سزا کے بعد ڈی سیٹ کیا گیا، جبکہ پی پی 167 اس پالیسی کے زمرے میں نہیں آتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد رہنماؤں نے سیاسی کمیٹی کے سامنے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی تجویز پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جس طرح این اے 129 کو بائیکاٹ پالیسی میں شامل نہیں کیا گیا، اسی طرح پی پی 167 کو بھی اس فیصلے سے الگ رکھا جانا چاہیے تھا۔ واضح رہے کہ ضمنی انتخاب میں حصہ نہ لینے کا باضابطہ اعلان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کی جانب سے کیا گیا تھا۔ یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی پی 167 میں 4 فروری کو ضمنی انتخاب کے انعقاد کے لیے انتخابی شیڈول جاری کر دیا ہے، جبکہ پارٹی کے اندر بڑھتے اختلافات نے تحریک انصاف کی انتخابی حکمتِ عملی کو مزید بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






