پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ 8 فروری کو احتجاج ہر حال میں ہوگا، تاہم جو فریق مذاکرات کرنا چاہتا ہے وہ اس عمل کو جاری رکھ سکتا ہے۔
سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں وزیراعلیٰ کے پی نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں براہِ راست مذاکرات کی کوئی ہدایت نہیں دی، جبکہ بات چیت کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے سپرد کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبائی امور پر مکالمے اور باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے تیار ہیں، مگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا موقع فراہم نہیں کیا جا رہا۔
سہیل آفریدی نے آئین و قانون کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو عوامی مفاد میں پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی تقریب یا اجلاس میں شرکت کا موقع ملا تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ضرور کریں گے۔ پشاور کی ترقی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہر کو آگے بڑھایا جائے گا، تاہم یہاں لاہور جیسی صورتحال نہیں ہوگی جہاں جلسے جلوسوں پر پابندیاں عائد ہیں۔ وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے اے آئی پی کے تحت 700 ارب روپے کے بقایاجات اب تک ادا نہیں کیے گئے، جبکہ چند برسوں میں صرف 168 ارب روپے جاری ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بجلی کے خالص منافع سمیت وفاق کو صوبے کے چار ہزار ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو بھرپور انداز میں میدان میں آنا ہوگا۔ لاہور اور کراچی کے دوروں کا مقصد عوامی شعور بیدار کرنا اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے عوام کو متحرک کرنا ہے، کیونکہ بانی پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے ملک کے رہنما ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے اور شفافیت، میرٹ اور ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع میں ترقی کے عمل سے عسکریت پسندی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ امن و امان کو حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں اور وہ خود بھی نگرانی کر رہے ہیں، کیونکہ عوام کو عملی تبدیلی دکھانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بجلی کے بحران کے مستقل حل سے متعلق انہوں نے بتایا کہ مختلف اقدامات زیر غور ہیں اور پیسکو کو صوبائی حکومت کے زیرانتظام لانے کا آپشن بھی موجود ہے۔ لاہور کے دورے کے دوران نامناسب زبان کے استعمال پر انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ردعمل تھا، جس پر معذرت بھی کر لی گئی ہے۔ آخر میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کابینہ میں جلد توسیع کی جائے گی اور جن ارکان پر الزامات ہیں انہیں کابینہ میں شامل نہیں کیا جائے گا، جبکہ 8 فروری کا احتجاج ہر صورت ہوگا، چاہے مذاکرات کا عمل جاری رہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






