اسلام آباد: وزارت خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی قیمتوں اور زرعی پیداوار پر دباؤ کے باعث ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اپنی ماہانہ معاشی رپورٹ میں وزارت نے بتایا کہ آئندہ ماہ مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، تاہم خوراک کی قیمتوں اور زرعی پیداوار کے دباؤ سے معمولی اضافہ بھی متوقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال محتاط طور پر مثبت ہے اور صنعتی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ معاشی اصلاحات کے نفاذ سے اقتصادی سرگرمیوں میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ زرعی شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ فصلوں کا مجموعی منظرنامہ ملا جلا ہے، لیکن مناسب زرعی ان پٹس کی دستیابی سے صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے۔ حکومت کے معاون اقدامات کے باعث ربیع سیزن کے دوران سپلائی لائنز مزید مستحکم ہونے کا امکان بھی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق معیشت بتدریج استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور ساختی اصلاحات کے عملی نتائج ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مالی نظم و ضبط میں بہتری اور محصولات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حکومتی اخراجات میں محتاط حکمت عملی جاری رہے گی۔ ترسیلات زر میں اضافہ، بڑے پیداواری شعبوں میں بہتری اور آئی ٹی برآمدات کی بڑھتی ہوئی کارکردگی معیشت کے لیے مثبت اشارے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جولائی تا ستمبر کے دوران پبلک ڈیٹ میں 1371 ارب روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو پانچ سال بعد کسی ایک سہ ماہی میں قرض میں اتنی بڑی کمی ہے۔ مہنگے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی سے مالی خطرات کم ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی استحکام کے لیے حکومت کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور آنے والے مہینوں میں معاشی اشاریوں میں مزید بہتری کی توقع ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






