مختلف بہانوں کے ساتھ پاکستان چھوڑ کر امریکہ جانے کے خواہش مند افراد کے لیے انتہائی بری خبر سامنے آئی ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکہ نے سیاسی اور ہر طرح کی پناہ کی تمام درخواستوں پر کارروائی روک دی ہے۔ اس اعلان نے بالخصوص پاکستان، افغانستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک سے پناہ کی امید رکھنے والوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
اس سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ “تیسری دنیا” کے تمام ممالک سے آنے والوں کے لیے ویزے بند کر دیں گے۔ “تیسری دنیا” کی اصطلاح میں گزشتہ ادوار میں پاکستان، افغانستان اور بھارت جیسے ممالک شامل کیے جاتے رہے ہیں، تاہم اب ٹرمپ اس اصطلاح سے کن ممالک کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔
نیشنل گارڈ کی رکن سارہ بیکسٹروم کی ایک افغان شہری کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امریکہ میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس واقعے کے فوراً بعد امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے اعلان کیا کہ تمام سیاسی پناہ کے فیصلے اگلے حکم تک روک دیے گئے ہیں۔ USCIS کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے کہا کہ جب تک ہر درخواست گزار کی مکمل اسکریننگ یقینی نہیں ہو جاتی، کارروائی نہیں کی جائے گی۔
یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی جانب سے “تیسری دنیا کے ممالک” سے مستقل ہجرت روکنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔ فائرنگ کے واقعے میں ایک فوجی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا جس کے بعد افغان پناہ گزین براہِ راست متاثر ہوئے۔ پہلے مرحلے میں افغانوں کے ویزے عارضی طور پر روکے گئے اور پھر تمام قومیتوں کی پناہ کی درخواستیں فریز کر دی گئیں۔
دوسری طرف USCIS نے 19 ممالک کے باشندوں کو دیے گئے گرین کارڈز کی دوبارہ جانچ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان ممالک میں افغانستان، ایران، صومالیہ، ہیٹی، وینزویلا اور دیگر شامل ہیں۔ اب تک اس عمل کے معیار، طریقہ کار یا مدت کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
صدر ٹرمپ نے اضافی طور پر غیر شہریوں کے تمام وفاقی فوائد ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں پناہ گزینوں کے آنے سے “سماجی خرابی” پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ وہ “تیسری دنیا کے تمام ممالک” سے ہجرت مستقل روک دیں گے۔
اس دوران اقوام متحدہ نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ گزینوں سے متعلق عالمی قوانین کی پاسداری کرے۔ امریکی امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ردعمل پناہ گزینوں کو “قربانی کا بکرا” بنانے کے مترادف ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق ذہنی بیماری اور بنیاد پرستی کا تعلق قومیت سے نہیں ہوتا۔
واشنگٹن کی فائرنگ کے ملزم، رحمان اللہ لکنوال، 2021 میں ایک خصوصی ویزا پروگرام کے تحت امریکہ آیا تھا۔ وہ افغانستان میں “زیرو یونٹ” کا رکن رہ چکا تھا جو سی آئی اے کے ساتھ کام کرتی تھی۔ اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار رہا تھا۔
ملزم کی سیاسی پناہ کی درخواست ٹرمپ کے دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد منظور ہوئی تھی، تاہم اس کا گرین کارڈ ابھی زیرِ غور ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال امریکی امیگریشن پالیسی میں سختی کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتی ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان سمیت کئی ممالک کے شہریوں پر پڑے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






