فواد چوہدری نے پھر الیکشن کمیشن کو منشی کہہ دیا

پی این آئی کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں ۔

اسلام آباد (پی این آئی) سینئر نائب صدر تحریک انصاف فواد چودھری کو اسلام آباد کی عدالت میں پیش کر دیا گیا، پولیس نے پی ٹی آئی رہنما کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

دوران سماعت فواد چودھری نے کہا اس میں کوئی شک نہیں الیکشن کمیشن کی حالت واقعی منشی جیسی ہے، تحریک انصاف کا ترجمان ہوں،جو بات کرتا ہوں وہ میری پارٹی پالیسی ہوتی ہے۔ ضروری نہیں جو بات کروں وہ میرا ذاتی خیال ہو, میری باتوں کا غلط مطلب لیا گیا، ایف آئی آر کو قانونی مان لیا تو عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔ انہوں نے عدالت سے اپنے خلاف کیس خارج کرنے کی استدعا کردی۔ اسلام آباد کی ایف ایٹ کچہری میں ڈیوٹی مجسٹریٹ نوید خان نے پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری کیخلاف کیس کی سماعت کی۔ انہیں اسلام آباد پولیس ہتھکڑیاں لگا کر عدالت لائی جس پر ان کے وکلا نے عدالت سے ہتھکڑیاں کھولنے کی استدعا کی۔ فواد چودھری نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ باہر 1500 پولیس اہلکار تعینات ہیں اور مجھے ہتھکڑیاں لگا کر عدالت لایا گیا۔

لاہور سے اسلام آباد راستہ بھر اسی حالت میں رکھا گیا۔ سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، پولیس کو ہدایت کی جائے کہ اس طرح کا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا جس کے مطابق الیکشن کمیشن کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، فواد چودھری نے شہریوں کو اشتعال دلایا، پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ الیکشن کمیشن ملازمین کے گھروں تک پہنچیں گے، ان کا مقصد آئینی ادارے کے خلاف نفرت کو فروغ دینا تھا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے مزید کہا کہ ایف آئی آر میں بغاوت کی دفعات بھی شامل ہیں، الیکشن کمیشن کے ارکان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، الیکشن کمیشن کو دھمکی آمیز خط لکھے جا رہے ہیں، دھمکیوں والا مواد چیمبر میں دکھا سکتا ہوں۔ فواد چودھری نے کہا الیکشن کمیشن کی حالت منشی جیسی ہے۔ دوران سماعت اسلام آباد پولیس نے فواد چودھری کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل پر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ میری گرفتاری غیر قانونی ہے، اس میں کوئی شک نہیں الیکشن کمیشن کی حالت واقعی منشی جیسی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ کسی ادارے پر تنقید کی جائے تو بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا جائے۔ تحریک انصاف کا ترجمان ہوں،جو بات کرتا ہوں وہ میری پارٹی پالیسی ہوتی ہے۔ ضروری نہیں جو بات کروں وہ میرا ذاتی خیال ہو۔ کسی اجتماع سے خطاب نہیں، میڈیا ٹاک کر رہا تھا۔ دھمکی نہیں دی، سمجھا رہا تھا۔ میری باتوں کا غلط مطلب لیا گیا۔ الیکشن کمیشن سٹیٹ ہے نہ حکومت، لاہور پولیس نے میرا موبائل فون قبضے میں لے رکھا ہے۔ سینئر وکیل سپریم کورٹ، پارلیمنٹیرین، تحریک انصاف کا ترجمان اور سابق وفاقی وزیر ہوں۔ ایف آئی آر کو قانونی مان لیا تو عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔

close