پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرےلسٹ سے نکلنے میں ناکام، کونسا ملک پاکستان کی سب سے زیادہ مخالفت کرتا رہا؟ وہ ملک بھارت نہیں بلکہ کوئی اور نکلا

اسلام آباد (پی این آئی) پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) کی گرے لسٹ سے نکلنے میں ناکام رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ فرانس کی جانب سے کی جانے والی شدید مخالفت ہے۔ پاکستان کو ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے جون تک کا وقت دیا گیا ہے جس کے بعد پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔

فرانس کی جانب سے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی کڑی مخالفت کے بارے میں سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مخالفت کی بڑی وجہ فرانس کے انڈیا کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے ہیں، وہ اس طریقے سے بھارتیوں کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ ’ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے ہندوستان اور فرانس ایک ہی صفحے پر ہیں۔‘بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے نجم الدین شیخ کا مزید کہنا تھا کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ فرانس یورپی یونین کا حصہ ہونے کے باوجود اس کی پالیسی سے ہٹ کر اپنی پالیسی اختیار کرتا ہے، پاکستان کو اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے اور یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالا رکھا جائیگا یا برقرار رکھا جائیگا؟ فیصلہ سنا دیا گیا منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے جون 2021 تک کی مہلت دے دی ہے۔ایف اے ٹی ایف کا تین روزہ اجلاس پیرس میں ہوا جہاں پاکستان کیجانب سے اٹھائے گئے اقدمات کا جائزہ لینے کے بعد اسے گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے 27 میں سے 24 نکات پر عمل درآمد کرلیا ہے۔‘گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب سے 27 میں سے 21 نکات پر عمل درآمد پر مثبت پیش رفت کو سراہتے ہوئے بقیہ چھ نکات پر بھی عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی تھی۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے چھ نکات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت کی بڑی سطح پر چھان بین اور اس کی تفتیش یقینی بنانا، اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیے گئے افراد کی تفتیش اور ان کے خلاف مقدمے چلانا اور ایسے افراد کے خلاف بھی مقدمے چلانا شامل تھا جو اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد افراد کے ماتحت اِسی طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہوں۔اس کے علاوہ پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ ’دہشت گردی کی معاونت کے حوالے سے

قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں جیسے بینکوں وغیرہ کو انتظامی اور دیوانی سزائیں ملیں اور اس سلسلے میں صوبائی اور وفاقی ادارے تعاون کریں۔‘اکتوبر میں ہونے والے اجلاس کے بعد پاکستان نے ایف اے ٹی ایف پر کی گئی قانون سازی پر عمل درآمد کو تیز کرتے ہوئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں جن میں اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی فہرست میں شامل افراد کے خلاف مقدمے قائم کرنا اور انہیں سزائیں دینا شامل ہیں۔ گذشتہ سال نومبر میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو دہشت گردی کی مالی معانت کے الزام میں 10 سال سے زائد قید کی سزا سناتے ہوئے ان کے تمام اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ رواں برس جنوری میں لاہور ہی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکرطیبہ کے اہم رہنما ذکی الرحمن لکھوی کو بیرون ملک سے فنڈ حاصل کرنے اور دہشت گردی میں

مالی معاونت کرنے کے الزام میں 15 سال سے زائد قید کی سزا سنائی تھی۔ اسی طرح کالعدم تنظیم کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ایف ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ’پاکستان نے 27 نکات کے ایکشن پلان میں سے 21 نکات پر مکمل طور پر عمل درآمد کر لیا ہے جسے ایف اے ٹی ایف کے ممبران کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔‘ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ’ہم سمجھتے ہیں کہ بقیہ چھ نکات پر بھی کافی حد تک کام ہوچکا ہے اور کچھ حصوں پر پیش رفت جاری ہے۔ امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا جائے گا۔ سابق چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان

کی جانب سے ایسےاقدامات اٹھائے گئے ہیں جس پر ہم اپنا موقف درست انداز میں پیش کر سکتے ہیں لیکن اس بار پاکستان کی جانب سے ایسے سفارتکاری نظر نہیں آئی جو ہونی چاہیے تھی۔‘ہارون شریف کے مطابق اس معاملے پر پاکستان نے قانون سازی بھی کی ہے اور کئی ایسے اقدامات بھی اٹھائے ہیں جو کہ کافی مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن ’اب یہ معاملہ صرف قانون سازی کی حد تک نہیں رہا بلکہ اس پر سفارتی محاذ پر بھی لابنگ کرنے کی ضرورت تھی جو کہ اس بار نظر نہیں آ رہی۔‘دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود کے خیال میں بھی پاکستان کو پیرس میں جاری جائزہ اجلاس سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ’پاکستان نے کئی ایسے اقدمات کیے ہیں جو کہ ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے مطابق تھے لیکن ابھی بھی کچھ ایسے اقدمات کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف فوری طور پر پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالے گا۔‘اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا کہ

’ایف اے ٹی ایف کےخیال میں پاکستان کو کالعدم تنظیموں پر مزید سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے، گو پاکستان نے ایسے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی مزید کارروائی کا بھی مطالبہ سامنے آ سکتا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان میں ایسے ادارے موجود ہیں جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات اٹھا رہے ہیں لیکن نئے قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے ابھی وقت درکار ہے۔‘سابق چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ایف اے ٹی ایف کی جائزہ ٹیم پاکستان نہیں آ سکی، اس لیے عالمی ادارے کے پاس پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا جواز موجود ہے۔ہارون شریف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے، اس کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جائزہ ٹیم نے پاکستان آنا تھا جو کورونا وائرس کے باعث نہیں آسکی۔ اس لیے

پاکستان کو جائزہ نہہونے کی وجہ سے گرے لسٹ میں مزید کچھ وقت کے لیے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘تاہم افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں آپریشن ردالفساد کے چار سال پورے ہونے کے موقع پر بریفنگ کے دوران فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا ’ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ان کی آبزرویشنز پر بہت کام کیا گیا، ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بہت پرامید ہیں۔‘

close