ڈاکٹر ظفر مرزا عدالت کو دھوکہ دے رہے ہیں، کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے کئے گئے اقدامات غیر اطمینان بخش ،وزیراعظم کے معاون خصوصی کیخلاف سخت ایکشن لے لیا گیا

اسلام آباد (پی این آئی)گرینڈ نیشنل ہیلتھ الائنس نے چیف جسٹس کے نام خط لکھ دیا جس میں موقف اختیار کیاگیا کہ معاون خصوصی ظفر مرزا اور پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کرونا انتظامات سے متعلق عدالت کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خط میں موقف اختیار کیاگیاکہ کرونا مریضو ں کیلئے

سہولیات کی فراہمی سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے،معاون خصوصی ظفر مرزا اور وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کہیں مال تو نہیں بنا رہے۔موقف اختیار کیاگیاکہ ہر روز وزراء ایئر پورٹس پر فوٹو سیشن کرواتے ہوئے یہ بیان دیتے ہیں چائنہ سے کروٹا ٹیسٹ کٹ،وینٹی لیٹرز سمیت دیگر آلات ملے۔موقف اختیار کیا گیا کہ کہیں پاکستان کو چائنہ سے ملنے والے طبی آلات سمگل تو نہیں ہو رہے،وزراء یہ غلط تاثر دے رہے ہیں کہ ینگ ڈاکٹرز،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے او پی ڈیز اور ان ڈور ایمرجنسی پر کام روک دیا ہے،ڈریپ کی طرف سے تاحال پلازما ٹیکنالوجی کی منظوری نہیں دی گئی،درحقیقت ڈریپ میں تکنیکی تجربے سے خالی بدعنوان افراد کا جھرمٹ موجود ہے۔موقف اختیار کیاگیاکہ پلازما ٹیکنیک کیلئے کیا مزید اموات کا انتظار کیا جارہا ہے،سرکاری ہسپتالوں میں کرونا کے لازمی ٹیسٹ کی سہولت کیوں موجود نہیں،شوکت خان اور آغا خان ہسپتال میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے،ڈاکٹر یاسمین راشد صحت کے بجٹ میں اضافے کی ہمیشہ بات کر تی رہیں لیکن ہسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں۔موقف اختیار کیاگیاکہ ڈریپ کے عملے کو ہسپتال عملے کے مقابلے میں تین گنازیادہ تنخواہیں دی جارہی ہیں،وزارت صحت کے عملے کو کلریکل کام کے باوجود پیشہ وارانہ الاؤنس کیو ں دیا جارہا ہے، تین ارب روپے کی ٹائیڈفائیڈ ویکسین بھارت سے کیوں منگوائی گئی،وزراء روزانہ ماسک تبدیل کرتے ہیں لیکن ہسپتال کا عملہ بنیادی تحفظ کے آلات سے محروم ہے،ڈاکٹر ظفر مرزا نے سی ای او ڈریپ اور کچھ ادویات ساز کمپنیوں کے ذریعے چیف جسٹس کیخلاف تضحیک آمیز مہم چلائی۔استدعا کی گئی کہ وزراء اور انتظامیہ کو ہسپتالوں کے امور میں مداخلت سے روکا جائے،نکالے گئے طبی عملے اور ڈاکٹرز کو بحال کیا جائے،ہسپتال کے عملے کو دو گنا تنخواہ دی جائے،صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد،ڈاکٹر ظفر مرزا،سی ای او ڈریپ کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے،ڈاکٹراور طبی عملے کو حفاظی آلات فراہم کیا جائے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں