نوزائیدہ بچوں کا بروقت معائنہ نہ ہونے کے سبب اندھا پن بڑھ رہاہے۔ الشفاء ٹرسٹ قبل از وقت پیدا ہونے والے ہزاروں بچوں کو بصارت کے مستقل ضیاع کا خطرہ ہے۔ ڈاکٹر سمیرا الطاف

راولپنڈی (اپریل 06-2026)
الشفا ٹرسٹ آئی ہاسپٹل کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے عالمی اوسط سے کہیں زیادہ شرح سے بصارت سے محروم ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ ریٹینوپیتھی آف پری میچوریٹی (آر او پی ) نامی آنکھوں کی ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج ممکن ہےلیکن اس کی بروقت تشخیص نہیں ہو پا رہی۔

اگرچہ بروقت اسکریننگ اور علاج سے اکثر کیسز کو روکا جا سکتا ہے لیکن عوام کی خدمات تک رسائی محدود ہے اور بہت کم اسپتال مستقل بنیادوں پر اسکریننگ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ملک میں قبل از وقت پیدائش کی شرح 14.4 فیصد ہے جو دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں اس مرض سے دوچار بچوں کی تعداد مغربی ممالک کی شرح کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے۔پشاور بلوچستان اور لاہور میں کئے گئے

ایک سروے کے مطابق اکثر ہسپتالوں میں سکریننگ کی سہولیات ہی موجود نہیں جبکہ تربہت یافتہ ڈاکٹروں کی بھی کمی ہے۔ایک اورتحقیق کے مطابق اس بیماری سے متاثرہ 76.4 فیصد بچے مکمل طور پر نابینا ہو گئے جبکہ 23.6 فیصد شدید بصری معذوری کا شکار ہوئے۔

الشفا ٹرسٹ آئی ہاسپٹل میں پیڈیاٹرک آپتھلمولوجی کی سربراہ اور سینئر کنسلٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سمیرا الطاف نے بتایا کہ الشفاء ٹرسٹ میں یہ خدمات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ٹرسٹ میں ایک کوآرڈینیٹربھی موجود ہے جو نوزائیدہ بچوں کا ریکارڈ رکھتا ہے اور ان کی اسکریننگ کو یقینی بناتا ہے۔

ٹرسٹ ماہرینِ چشم کے لیے ورکشاپس اور تربیتی سیشنز بھی منعقد کرتا ہے جس کے نتیجے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے کم از کم چار اسپتالوں میں الشفا ء ٹرسٹ کے تربیت یافتہ ماہرین خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ یہ نیٹ ورک آزاد جموں و کشمیر کے بڑے شہروں تک بھی پھیل چکا ہے۔

وہ بچے جو حمل کے 35 ہفتے یا اس سے پہلے پیدا ہوں یا جن کا وزن دو کلوگرام یا اس سے کم ہو انہیں اس بیماری کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور پیدائش کے چار ہفتوں کے اندر ان کی اسکریننگ ضروری ہے۔ ہر سال تقریباً 7,200 بچے جو 32 ہفتوں سے پہلے پیدا ہوتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مسئلے کی اس سنگینی کے باوجود ملک میں آر او پی اسکریننگ کا کوئی قومی پروٹوکول موجود نہیں ہے ورنہ ہزاروں بچوں کی بصارت بچائی جا سکتی تھی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close