راولپنڈی (17 مارچ 2026)
الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال نے خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پولن کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ گئی جس کے باعث آنکھوں کی تکلیف دہ الرجی کے مریضوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
پولن کا موسم عموماً مارچ کے وسط سے اپریل تک جاری رہتا ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-8 میں فضا میں پولن کی مقدار 14,695 ذرات فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیکٹر جی-6 اور ای-8 میں یہ تعداد بالترتیب 5,510 اور 5,391 رہی۔
الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق نے کہا کہ فضا میں پولن کی زیادہ مقدار الرجی کا باعث بن رہی ہے جس میں آنکھیں سرخ خارش زدہ اور سوجن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ باہر جاتے وقت حفاظتی یا بڑے فریم والے دھوپ کے چشمےاستعمال کئے جائیں تاکہ پولن آنکھوں تک نہ پہنچ سکے۔انہوں نے بتایا کہ پولن الرجی کی عام علامات میں آنکھوں میں جلن، خارش، سرخی، پانی آنا، سوجن اور روشنی سے حساسیت شامل ہیں۔ جن افراد کو پہلے سے الرجی یا دمے کی شکایت ہو وہ گھروں کے اندر ایئر پیوریفائر استعمال کریں۔
ڈاکٹر انعام الحق کے مطابق ہسپتال آنے والے مریضوں میں پولن الرجی سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ وزارت صحت کے اندازوں کے مطابق جڑواں شہروں میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد یعنی لگ بھگ 30 فیصد آبادی الرجی کا شکار ہے۔ راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ہسپتال سمیت مختلف ہسپتالوں میں ہر سال الرجی کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر انعام الحق نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہے۔ گرمیوں کا دورانیہ تقریباً 150 دن سے بڑھ کر 180 دن تک پہنچ چکا ہے جبکہ بہار کا موسم تقریباً 45 دن سے کم ہو کر لگ بھگ 10 دن رہ گیا ہے جس سے وہ بارشیں کم ہو گئی ہیں جو پہلے فضا سے پولن صاف کرنے میں مدد دیتی تھیں۔
2 فروری 2026 کو انٹرنیشنل جرنل آف بایومیٹیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق، جس میں اسلام آباد کے 16 سالہ پولن ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ اور فضائی آلودگی پولن کی مقدار بڑھانے اور الرجی کے موسم کو طول دینے کا باعث بن رہے ہیں۔عوام پولن کے عروج کے اوقات یعنی صبح کے وسط سے شام کے ابتدائی حصے تک گھروں کے اندر رہنے کی کوشش کریں، کھڑکیاں بند رکھیں اور ایئر کنڈیشنر استعمال کریں۔ شدید یا مسلسل علامات کی صورت میں آنکھوں کے قطرے استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






