ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عام طور پر استعمال ہونے والی درد کش ادویات گردوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
Kidney Care UK اور National Pharmacy Association کے مطابق، لوگوں کو درد کے علاج کے لیے اینٹی انفلیمیٹری ادویات، خصوصاً Ibuprofen، پر زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ گردوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جن میں گردوں کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جیسے شوگر یا ہائی بلڈ پریشر کے مریض، انہیں اس حوالے سے خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔
تاہم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر صحت مند گردوں کے حامل افراد بھی طویل عرصے تک زیادہ مقدار میں درد کش ادویات استعمال کریں تو اس سے گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ ادویات گردوں تک خون کی فراہمی کو کم کر سکتی ہیں یا ان کے بافتوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
نان اسٹرائیڈل اینٹی انفلیمیٹری ادویات یعنی NSAIDs جیسے Ibuprofen، Naproxen اور Diclofenac بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں اور گردوں کے اندر موجود خون کی نالیوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
National Pharmacy Association کے چیئرمین Olivier Picard کے مطابق ادویات میں جہاں بیماریوں کے علاج کی صلاحیت ہوتی ہے، وہیں ان میں نقصان پہنچانے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






