راولپنڈی (3 مارچ 2026)
الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹل کے سرجنوں نے چھ سالہ صومالی بچی نیمو کی آنکھ سے پیدائشی رسولی کامیابی سے نکال دی جو دماغ کی جانب پھیل رہی تھی اور جان لیوا پیچیدگیوں کا خطرہ بن چکی تھی۔
بچی کا مختلف ممالک میں علاج کرایا گیا تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔سینئر ماہرِ چشم پروفیسر ڈاکٹر طیب افغانی کے مطابق بچی کے والدین تاخیر سے پاکستان پہنچےجس دوران رسولی کا حجم بڑھ چکا تھا اور متاثرہ آنکھ کی بینائی ضائع ہو گئی تھی۔
تفصیلی معائنے سے معلوم ہوا کہ رسولی مسلسل پھیل رہی ہےجس کے باعث فوری جراحی مداخلت کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مریضہ کو مہلک پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے۔ماہرین پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے یہ آپریشن بغیر کسی بڑی پیچیدگی کے مکمل کیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کی حالت تسلی بخش ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر افغانی کا کہنا تھا کہ یہ کیس بروقت تشخیص اور خصوصی علاج تک رسائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہےکیونکہ تاخیر سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کم از کم 2.2 ارب افراد کسی نہ کسی درجے کی بصارت کی کمزوری کا شکار ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ترقی پذیر ممالک میں رہتی ہے جہاں معیاری طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔ جنوبی ایشیا اور افریقہ کے متعدد علاقوں میں قابلِ علاج آنکھوں کی بیماریاں اب بھی اندھے پن کا سبب بن رہی ہیں۔
الشفاء ٹرسٹ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو مخیر حضرات کے تعاون سے خدمات فراہم کرتا ہے۔ ہسپتال کے مطابق تقریباً 80 فیصد مریضوں کا علاج بلا معاوضہ کیا جاتا ہے، جبکہ پیچیدہ سرجریوں کے لیے خصوصی فنڈز اور عطیات پر انحصار کیا جاتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






