راولپنڈی۔۔ الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال نے آنکھوں کی موروثی بیماریوں میں مبتلا 91 خاندانوں کے 139 مریضوں کی جینیاتی جانچ مکمل کر لی ہے۔ یہ پیش رفت آنکھوں کی بیماریوں کے لیے پاکستان کی پہلی جینیاتی ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کے ایک سال بعد سامنے آئی ہے۔ یہ لیبارٹری اُن جینز کی شناخت میں مدد دیتی ہے جو بینائی کے نقصان کا سبب بنتی ہیں۔
ماہر جنیات ڈاکٹر رتابا گل کے مطابق جنیاتی بیماریوں سے عالمی سطح پر تقریباً اسی لاکھ افراد متاثر جبکہ
پاکستان میں جینیاتی آنکھوں کی بیماریوں کا مسئلہ عالمی شرح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہےتاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے بیماریوں کی وجوہات کی تصدیق کی جاتی ہے اور زیادہ درست تشخیص ممکن ہو جاتی ہے۔پاکستان میں موروثی بیماریوں کی ایک وجہ قریبی رشتہ داروں میں شادیاں ہے ۔ یہ بیماریاں یورپ امریکا اور دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں یہاں زیادہ عام ہیں۔جینیاتی لیبارٹری متعدد ایسی بیماریوں کی تشخیص کرتی ہے جن کا بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی کمزور یا نابینا پن ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جینیاتی وجہ کی تصدیق کے بعد خاندانوں کو مشاورت فراہم کی جاتی ہے تاکہ انھیں بچوں کو لاحق خطرات اور علاج کے امکانات سے آگاہ کیا جا سکے۔پروفیسر ڈاکٹر طیب افغانی نے بتایا کہ پاکستان میں بچوں میں آنکھوں میں کینسر کا مرض بڑھ رہا ہے۔ ہر سال تقریباً 700 بچوں میں آنکھوں کے کینسر کا علاج کیا جاتا ہے جو بھارت کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔
الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کے صدر میجر جنرل (ر) رحمت خان کے مطابق بھاری اخراجات کے باوجود تمام جینیاتی ٹیسٹنگ بلا معاوضہ کی جاتی ہے ۔ جینیاتی ٹیسٹنگ پروگرام کو وسعت دینے اور قومی ڈیٹا بیس قائم کرنے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






