اسلام آباد: پبلک ہیلتھ کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے نپاہ وائرس کو کورونا سے کہیں زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے اب تک کوئی مؤثر ویکسین دستیاب نہیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر سعید خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت پاکستان میں نپاہ وائرس کے حوالے سے صورتحال کنٹرول میں ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مسلسل نگرانی اور سخت احتیاطی تدابیر پر عمل ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں 2023 کے بعد ایک مرتبہ پھر نپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنا تشویشناک ہے، جس کے پیش نظر فوری اور سنجیدہ حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مؤثر اسکریننگ کا نظام قائم کیا جائے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوام کی غیر ضروری نقل و حرکت محدود کی جائے۔
ڈاکٹر سعید خان نے عالمی کرکٹ ایونٹس کے تناظر میں بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹس، خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، بھارت میں منعقد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی ہونی چاہیے تاکہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ممکنہ صحت کے خطرات سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب بھارت میں نپاہ وائرس کی صورتحال پر شفاف معلومات کی کمی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی میڈیا نے بھی بھارتی حکام کی تیاریوں اور وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مغربی بنگال میں نپاہ وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ریاست کیرالہ میں ایک نوجوان کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق نپاہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور اس کی شدت کورونا وائرس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ اس کی شرح اموات 40 سے 75 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔ صحت کے ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ماضی میں بھارت میں مختلف بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کے دوران صحت و صفائی کے ناقص انتظامات پر تنقید سامنے آتی رہی ہے، جس کے باعث موجودہ حالات میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






