بظاہر صحت مند لوگ بھی دل کا دورہ اور فالج کا شکار کیوں؟ سائنسدانوں کی چونکا دینے والی تحقیق

نئی طبی تحقیق نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ دل کا دورہ اور فالج صرف اُن افراد کو متاثر نہیں کرتے جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں، ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس کے مریض ہوتے ہیں، بلکہ یہ خطرہ اُن پر بھی منڈلاتا ہے جو بظاہر بالکل صحت مند نظر آتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق فالج اور ہارٹ اٹیک کے تقریباً آدھے کیسز ایسے افراد میں سامنے آتے ہیں جن کے پاس کوئی واضح رسک فیکٹر موجود نہیں ہوتا۔ اس مطالعے میں 12 ہزار 530 خواتین نے حصہ لیا۔ ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر پال رڈکر کے مطابق، اگر کسی خاتون کے جسم میں سوزش موجود ہو تو اُس کے دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ 77 فیصد اور فالج کا خطرہ 39 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو چاہیے کہ وہ 40 سال کی عمر سے ہی کولیسٹرول کم کرنے والی دوائیں استعمال کرنا شروع کریں، تاکہ یہ خطرہ تقریباً 38 فیصد تک کم ہوسکے۔ بصورت دیگر 70 برس کی عمر تک بیماری جڑ پکڑ لیتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق:

صرف برطانیہ میں ہر سال 1 لاکھ افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 38 ہزار اموات واقع ہوتی ہیں، جس سے یہ ملک کا چوتھا سب سے بڑا قاتل مرض بن چکا ہے۔

امریکا میں ہر سال تقریباً 7 لاکھ 95 ہزار افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے 1 لاکھ 37 ہزار جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

یعنی، بظاہر صحت مند دکھائی دینے والے افراد کے لیے بھی یہ ایک خاموش خطرہ ہے، جسے وقت پر پہچاننا اور قابو پانا زندگی بچا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close