پانی کی قلت ؟؟؟ پاکستان کے لئے خطرے کی نئی گھنٹی

پاکستان  ‘واٹر اسکارس’ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ، ملک میں فی کس پانی کی سالانہ دستیابی 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں پانی کی کمی ایک سنگین انسانی اور معاشی بحران کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکانومکس کی حالیہ رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس کے مطابق پاکستان تیزی سے ’’واٹر اسٹریسڈ‘‘ (پانی کی کمی والے) ملک سے ’’واٹر اسکارس‘‘ (پانی کی شدید قلت والے) ملک کی درجہ بندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے ان 17 ممالک میں جہاں پانی کی سب سے زیادہ قلت ہے، پاکستان 14 ویں نمبر پر آ گیا ہے، ملک میں فی کس پانی کی سالانہ دستیابی 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے، جو کہ ایک خطرناک ترین حد ہے۔

صوبائی محکمہ آبپاشی نے پنجاب اسمبلی کو پانی کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فرسودہ نہری نظام اور پانی کی چوری کے باعث پانی کا بڑا حصہ ضائع ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی کے ضیاع کو کنٹرول کرنے کے لیے پنجاب میں 7 لاکھ سے زائد واٹر میٹرز لگانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، صوبے بھر میں 58 چھوٹے ڈیمز پر کام جاری ہے، جن میں سے 3 نئے ڈیمز تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ زرعی شعبے میں پانی بچانے کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے ڈرپ اور اسپرنکلر سسٹم (جدید آبپاشی) متعارف کرا دیا گیا ہے۔

پانی چوری کے خلاف کارروائی: نہری نظام میں پانی چوری روکنے کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹم فعال کر دیا گیا ہے اور چوروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا آغاز ہو چکا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close