پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے بعد ملک بھر میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عوام مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی زد میں آ گئے ہیں۔ بازاروں میں بنیادی ضرورت کی کئی اشیاء کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس کے باعث عام شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
تاجر حلقوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کے باعث منڈیوں سے شہر تک سامان لانے کی لاگت بڑھ گئی ہے جس کا براہِ راست اثر بازاروں میں فروخت ہونے والی اشیاء پر پڑ رہا ہے۔ اسی وجہ سے مختلف خوراکی اشیاء کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں اور کئی اشیاء کی قیمتیں ڈبل سنچری تک پہنچ گئی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کم آمدن والے طبقے کے لیے سادہ کھانا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد روزمرہ استعمال کی چیزیں تیزی سے مہنگی ہو رہی ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے دعوے عملی طور پر نظر نہیں آ رہے۔
دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ منڈیوں میں قیمتیں بڑھنے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کے باعث خوردہ سطح پر بھی قیمتیں بڑھانا پڑ رہی ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






