اسلام آباد عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران جنگ کے اثرات کے تحت تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات مقامی سطح پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ قیمتوں کے تعین میں پٹرول کی قیمت میں تقریباً 55 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 75 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اوگرا اپنی سمری دو روز میں پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گا، جس کے بعد حتمی منظوری وزیراعظم شہباز شریف دیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت قیمتوں میں ایک دم اضافے کے بجائے مرحلہ وار اضافہ بھی کر سکتی ہے، جبکہ عوامی دباؤ کے پیش نظر سبسڈی برقرار رکھنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر چکی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے مٹی کے تیل اور ہائی آکٹین پر اضافی لیوی عائد کی گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






