اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق حکومت بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے، تاہم عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ٹی وی پروگرامز میں خام تیل کی قیمتوں پر بات کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں خام تیل کو ریفائنری کے پیچیدہ عمل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یکم مارچ کو ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی جو 6 مارچ تک بڑھ کر 149 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ اسی طرح جو کارگو پہلے تقریباً 7 لاکھ ڈالر میں ملتا تھا وہ اب بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اجلاس کے دوران سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایران پر میزائل داغا اور آپ نے پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کا میزائل چلا دیا۔ اس پر وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی مشاورت سے کیا گیا۔ علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ اگر قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا تو اس فرق کی وجہ سے ایک بڑا گردشی قرض پیدا ہو جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت سبسڈی دیتی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
ان کے مطابق پاکستان میں پیٹرول درآمد ہونے میں تقریباً 20 دن لگتے ہیں، اور اگر قیمت بروقت نہ بڑھائی جاتی تو کمپنیاں فیول درآمد کرنے سے گریز کرتیں، جس سے ملک میں فیول کی شدید کمی ہو سکتی تھی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں ایسی صورتحال کے بعد ہنگامے شروع ہو گئے تھے، جبکہ بھارت اب تک فیول پر سبسڈی دے رہا ہے۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال اٹھایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے آخر فائدہ کس کو ہوا؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ غریب ہے جو 55 روپے تک کا اضافہ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ وزیر پیٹرولیم نے جواب میں کہا کہ عوام پر قیمتیں بڑھا کر کسی کو خوشی نہیں ہوتی، مگر موجودہ حالات میں حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





