پی ٹی اے کی درآمد کردہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت

 

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی ہے، جس کے بعد 2026 میں پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس پالیسی کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد جدید سمارٹ فونز خریدنے سے محروم ہے، جبکہ اس صورتحال پر عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے حکومت کو سفارشات ارسال کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ موبائل فونز اب محض لگژری نہیں رہے بلکہ تعلیم، کاروبار، ڈیجیٹل بینکنگ اور آن لائن روزگار کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں، تاہم درآمدی موبائل فونز پر بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز نے عام صارف کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔ اسی دوران وزیراعلیٰ پنجاب نے سڑکوں، مکانات اور ہاسٹلز کی تعمیر و مرمت کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی وطن واپسی پر اپنے استعمال کے لیے موبائل فون لانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور زیادہ ٹیکسوں کے باعث ایئرپورٹس پر فون رجسٹریشن ایک مہنگا مرحلہ بن چکا ہے، جس پر اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بارہا شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق اگر ٹیکسوں میں مناسب کمی کی جائے تو نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ موبائل فونز کی قانونی درآمد میں بھی اضافہ ہو گا۔ ماہرین کے مطابق بھاری ٹیکسوں کے باعث اس وقت پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے سمگلنگ اور غیر قانونی فونز کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا بلکہ حکومت کو طویل المدت بنیادوں پر ریونیو میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ ادھر چین نے امریکا سے وینزویلا کے صدر مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پی ٹی اے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ یا 2026 کی پالیسی میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کرے گی اور اگر سفارشات کو منظور کر لیا گیا تو آنے والے برس میں پاکستانی صارفین جدید موبائل فونز کم قیمت پر خریدنے کے قابل ہو سکیں گے، جس سے ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو عملی شکل دینے میں بھی مدد ملے گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close