نیویارک: کشمیر گلوبل کونسل کے صدر فاروق صدیقی نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے قیام میں پاکستان اور اس کے دوست ممالک کے مؤثر، مدبرانہ اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کی سفارتی کوششیں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے ایک مثبت اور بروقت پیش رفت ثابت ہوئی ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انتہائی حساس اور نازک صورتحال میں تحمل، حکمت اور فعال سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی برادری کو ایک ممکنہ تباہ کن تصادم سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
فاروق صدیقی نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بالخصوص وزیراعظم میاں شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بصیرت، جراتمندانہ فیصلوں اور عالمی سطح پر متوازن حکمت عملی نے ایک بڑے بحران کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا،
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت نے نہ صرف علاقائی استحکام کو ترجیح دی بلکہ عالمی امن کیلئے بھی اپنی ذمہ داری احسن انداز میں نبھائی، انہوں نے اس جنگ کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات، معصوم شہریوں کی ہلاکتوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی جنگیں نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری دنیا کیلئے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں اور اگر بروقت جنگ بندی نہ ہوتی تو دنیا ایک ممکنہ تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتی تھی جس کے اثرات ناقابل تصور ہوتے۔
صدر کشمیر گلوبل کونسل نے کہا کہ پاکستان کا یہ کردار عالمی سطح پر قابل تعریف اور قابل تحسین ہے جس نے ثابت کیا کہ ذمہ دار ریاستیں تنازعات کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتی ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے اسی جذبے کے تحت دنیا کے دیگر دیرینہ تنازعات بالخصوص جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے بھی سنجیدہ اقدامات کریں گے، انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ گزشتہ 78 برسوں سے حل طلب ہے جہاں لاکھوں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے کشمیری سیاسی قیادت پر پابندیاں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور مظالم عالمی ضمیر کیلئے ایک چیلنج ہیں۔
انہوں نے ان اقدامات کو انسانیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کیا، فاروق صدیقی نے اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دلانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں، انہوں نے کہا کہ جس طرح حالیہ بحران میں سفارتکاری کے ذریعے جنگ کو روکا گیا اسی طرح کشمیر جیسے دیرینہ تنازعے کو بھی پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے، آخر میں انہوں نے کہا کہ کشمیر گلوبل کونسل عالمی امن، انصاف اور انسانی حقوق کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور دنیا بھر میں کشمیری عوام کی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتی رہے گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






