جنیوا
انٹرنیشنل ایکشن فار پیسس اینڈ سسٹینیبل ڈویلپمنٹ کے چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے مرکزی نائب صدر سردار امجد یوسف نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اپنی ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس حق کی ضمانت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے دی تھی اور بھارت اور پاکستان دونوں نے اس پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر اپنی پوزیشن تبدیل کرتے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا اور ریاست کی حیثیت کو کم کر کے اسے اپنی یونین ٹیریٹریز (وفاقی زیرِ انتظام علاقوں) میں شامل کر لیا۔ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر میں ہر واقعے کے بعد کشمیریوں کے خلاف تشدد کی ایک نئی لہر زور پکڑ لیتی ہے۔
گزشتہ سال کے تنازع کے دوران جب بھارتیوں نے آزاد کشمیر میں عام شہریوں پر حملہ کیا، تو میرے حلقے میں نو بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے، جن میں ایک ہی خاندان کی تین خواتین بھی شامل تھیں جب ان کے کچن پر بھارتی مارٹر گولہ گرا۔ بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کار ان دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان مکمل جنگ کی پیش گوئی کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ہر ممکن طریقے سے کشمیریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے جنگ بندی کی مداخلت اور اس عزم کا خیر مقدم جموں و کشمیر کے عوام نے کیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں گے، لیکن مودی حکومت نے نہ صرف جموں و کشمیر کے عوام بلکہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ بھی وعدہ خلافی کی اپنی پالیسی جاری رکھی۔
جموں و کشمیر کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی ایک غیر جانبدارانہ رائے شماری ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ (plebiscite) کے
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






