ایران کے چیف مذاکرات کار میں کیا ہوا؟ باقر غالیباف نے امریکہ ، ایران مذاکرات کی اندرونی کہانی بتادی

ایران کے چیف مذاکرات کار باقر غالیباف نے امریکہ ، ایران مذاکرات کی اندرونی کہانی بتادی۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے سپیکر ڈاکٹر محمد باقر غالیباف نے ایران کی جانب سے مذاکرات چھوڑنے کی وجہ بتادی۔

’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے بعد واپسی پر محمد باقر غالیباف نے ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات کے بعد ایرانی وفد نے مذاکرات چھوڑ دیئے تھے۔ٹرمپ نے ایرانی صدر، مذاکراتی ٹیم ،ایرانی سرزمین پر ممکنہ حملوں سے متعلق دھمکی آمیز بیانات دیئے، ہم نے جے ڈی وینس سے کہا کہ ہم یہاں مذاکرات کے لیے آئے ہیں، دستخط شدہ مفاہمت کے پہلے نکتے کے مطابق کسی قسم کی دھمکی یا دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے نائب صدر وینس سےکہا کہ آپ کے صدر نے دھمکیاں دی ہیں، ایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا، دھمکی آمیز بیان کے بعد ایرانی وفد مذاکرات چھوڑ کر چلا گیا اور دوبارہ واپس نہیں آیا، امریکہ نے ثالثوں کے ذریعے ایک اور ملاقات کی درخواست کی لیکن ایران نےمسترد کردیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close