تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

امریکا اور ایران کے درمیان ایک عبوری معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد جمعرات کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

 

اس معاہدے کے تحت ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تہران کی تیل برآمدات پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

 

برینٹ کروڈ فیوچرز 1.64 ڈالر (2.06 فیصد) کمی کے ساتھ 77.91 ڈالر فی بیرل پر آ گئے  ، اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.80 ڈالر (2.34 فیصد) کمی کے بعد 74.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

 

مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور کے مطابق سرمایہ کار اس امکان کو تیزی سے قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں کہ ایرانی تیل توقع سے زیادہ جلد عالمی منڈی میں واپس آ جائے گا، جس کے باعث تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔پاکستان میں عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتیں 420 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی تھیں تاہم عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد اب ملک میں بھی عوام کو ریلیف ملنے کی توقع ہ

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 79 سے 80 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہیں اور روپے کی قدر میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی تو پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک کمی کی گنجائش موجود ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 35 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی ہوسکتی ہے۔

 

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت چاہے تو ٹیکسوں اور لیوی میں ردوبدل کے ذریعے عوام کو 50 روپے فی لیٹر تک کا ریلیف بھی دے سکتی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق آئندہ قیمتوں کے تعین کے لیے اوگرا  اپنی سمری وزارتِ خزانہ کو ارسال کرے گا جس کے بعد وزیراعظم کی مشاورت سے جمعہ کی شب نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔

 

ماہرین کے مطابق اگر حکومت مکمل ریلیف منتقل کرتی ہے تو آئندہ قیمتوں کے اعلان میں 30 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان موجود ہے تاہم حتمی کمی کا انحصار اوگرا کی سفارشات، ڈالر کے نرخ، درآمدی لاگت اور حکومتی ٹیکس پالیسی پر ہوگا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close