شدید حملے

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں اسرائیل نے آج صبح ایران پر نئے فضائی حملوں کا آغاز کر دیا۔ یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ نیوز کانفرنس کے بعد کیے گئے، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

 

صیہونی فوج کی جانب سے دارالحکومت تہران سمیت متعدد شہروں میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے رہائشی علاقوں پر شدید بمباری کی گئی جبکہ دارالحکومت اور اس کے قریبی شہر کرج کے مختلف علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کے نظام کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا سب سے بڑا پیٹروکیمیکل پلانٹ تباہ کر دیا گیا ہے۔

ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے مالی وسائل کو منظم انداز میں ختم کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کے دو بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکسز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایران کی برآمدات کا تقریباً پچاسی فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔

ادھر ایران نے بھی اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائل حملے شروع کر دیے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جنوبی اسرائیل کی فضاؤں میں ایرانی میزائل دیکھے گئے، جو الخلیل سے نیگوو کی جانب بڑھتے ہوئے دکھائی دیے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کا دفاعی نظام ان میزائلوں کو فضا میں ہی روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی الرٹ کو بلند ترین سطح پر کر دیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close