مقبولیت کے باوجود رہائی کیوں ممکن نہ ہوئی؟ علی امین گنڈاپور کا حیران کن اعتراف

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بھرپور عوامی مقبولیت اور حمایت کے باوجود عمران خان کو جیل سے رہائی دلانے میں ناکامی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

ان کے بقول اگر پارٹی کے اندرونی معاملات درست ہوتے تو آج عمران خان جیل میں نہ ہوتے۔ علی امین گنڈاپور نے اعتراف کیا کہ ملک میں قانون اور آئین کی صورتحال کے ساتھ ساتھ ہماری اپنی غلطیاں بھی اس بحران کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بار بار کی ناکامی یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آیا ہماری نادانی، نیت کی کمزوری، یا کسی کے ہاتھوں استعمال ہونا اس کی وجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اپنے قائد کے لیے غصہ کرتے ہیں، جسے برداشت کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق دباؤ بڑھانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں کیونکہ محض باتوں، مذاکرات، یا سوشل میڈیا ویڈیوز سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

علی امین کا کہنا تھا کہ صرف ٹی وی بیانات اور ٹک ٹاک پر دھمکیوں سے کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر تک رسائی کا بنیادی حق بھی دلانے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ان کے پاس نہ کوئی سرکاری عہدہ ہے اور نہ پارٹی منصب، بلکہ وہ خود کو ایک کارکن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ احتجاج کی کال پر وہ دو مرتبہ بڑی ریلیاں لے کر آئے تھے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close