امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو واشنگٹن میں اپنے نام نہاد “بورڈ آف پیس” کے افتتاحی اجلاس کی میزبانی کریں گے، جس میں غزہ کی تعمیرِ نو سے متعلق حکمتِ عملی اور فنڈز کے اعلان پر غور کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے تقریباً 50 ممالک کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی، جن میں سے اب تک 35 ممالک نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 26 ممالک بورڈ میں شامل ہو کر بانی اراکین بن چکے ہیں، جبکہ کم از کم 14 ممالک نے دعوت نامہ مسترد کر دیا ہے۔
افتتاحی اجلاس میں بنیادی توجہ غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر ہوگی، جو جاری جنگ کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی کا شکار ہوا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ امریکا غزہ میں انسانی ہمدردی اور تعمیرِ نو کی کوششوں کے لیے رکن ممالک سے تقریباً 5 ارب ڈالر کے فنڈز کے اعلان پر زور دے گا۔
اس اجلاس میں ایک مجوزہ “انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس” کے بارے میں بھی مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں، جو ٹرمپ انتظامیہ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ کے بعد سکیورٹی اور انتظامی امور سنبھالنے سے متعلق ہوگی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






