چین کا یکم مئی سے کئی اہم ممالک کیلئے ٹیرف ختم کرنے کا اعلان

چین کے صدر شی جن پنگ نے اعلان کیا ہے کہ چین یکم مئی سے بیشتر افریقی ممالک کے لیے درآمدی محصولات (ٹیرف) ختم کر دے گا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ افریقی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چین پہلے ہی 33 افریقی ممالک کے لیے زیرو ٹیرف پالیسی پر عمل کر رہا تھا، تاہم گزشتہ برس بیجنگ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس سہولت کو براعظم کے اپنے تمام 53 سفارتی شراکت دار ممالک تک بڑھا دے گا۔ اب یکم مئی سے یہ رعایت عملی طور پر نافذ ہو جائے گی اور ایک ملک کے علاوہ تمام افریقی ممالک اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

یہ سہولت صرف اسواٹینی کو حاصل نہیں ہوگی، کیونکہ اس ملک کے تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے الگ ریاست تسلیم نہیں کرتا، جبکہ اسواٹینی افریقہ کا واحد ملک ہے جو تائیوان کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔

چین اس وقت افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور وہ اپنے وسیع “بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے کے تحت براعظم میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی مالی معاونت بھی کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد افریقی ممالک امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے سخت عالمی محصولات کے بعد چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

صدر شی جن پنگ نے کہا کہ زیرو ٹیرف معاہدہ افریقی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کا اعلان ایسے وقت میں کیا جب افریقی یونین کے سالانہ سربراہی اجلاس کے لیے براعظم کے رہنما ایتھوپیا میں جمع ہو رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close