بالوں کو گھنا اور پرکشش بنانے کے لیے استعمال ہونے والی ہیئر ایکسٹینشنز کے حوالے سے ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ان میں صحت کے لیے نقصان دہ اور بعض اوقات کینسر سے منسلک کیمیکلز موجود ہیں۔ ماہرین نے صارفین کو محتاط رہنے کی ہنگامی ہدایت دی ہے۔
ہیئر ایکسٹینشنز فیشن اور گلیمر انڈسٹری کا اہم حصہ بن چکی ہیں، اور آسٹریلوی ماڈل ایلے میکفارسن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ سمیت متعدد مشہور شخصیات انہیں استعمال کر چکی ہیں، جس کے باعث عام افراد میں بھی ان کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ یہ ایکسٹینشنز بالوں کو فوری طور پر گھنا، لمبا اور دلکش دکھانے کا حل فراہم کرتی ہیں۔
امریکی ریاست میساچوسیٹس میں قائم سائلنٹ اسپرنگ انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے 43 مقبول مصنوعات کا تجزیہ کیا، جس میں مختلف خطرناک کیمیکلز جیسے فلیم ریٹارڈنٹس، فیتھالیٹس، کیڑے مار ادویات، اسٹائرین، ٹیٹراکلوروایتھین اور آرگینو ٹنز موجود پائے گئے۔ سابقہ مطالعات کے مطابق یہ کیمیکلز کینسر، ہارمونز میں بگاڑ، بچوں کی نشوونما کے مسائل اور مدافعتی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر الیسیا فرینکلن کا کہنا ہے کہ اکثر کمپنیاں کیمیکلز کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کرتیں، جس سے صارفین طویل عرصے تک ممکنہ خطرات سے لاعلم رہتے ہیں۔ یہ فائبرز سر اور گردن کے قریب لگائے جاتے ہیں، اور جب اسٹائلنگ کے دوران حرارت دی جاتی ہے تو کیمیکلز فضا میں شامل ہو سکتے ہیں، جسے استعمال کرنے والا سانس کے ذریعے جذب کر سکتا ہے۔
کلپ اِن، ٹیپ اِن، ویوز اور مائیکرو لنکس جیسی ہیئر ایکسٹینشنز برطانیہ اور امریکا میں بہت مقبول ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ صارفین کیمیکل سے پاک یا تصدیق شدہ محفوظ آپشنز کا انتخاب کریں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






