سینیٹ میں بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت پر گرما گرم بحث، رانا ثناء اللّٰہ کی وضاحت

سینیٹ کے اجلاس میں بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی، رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ خان صاحب کی صحت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور یہ تاثر درست نہیں کہ چار ماہ تک غفلت برتی گئی۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا جیل کے ڈاکٹر باقاعدگی سے ہر دوسرے دن چیک اپ کرتے ہیں، جبکہ بیرونی ماہر ڈاکٹرز بھی متعدد بار معائنہ کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق، جب بھی بانیٔ پی ٹی آئی نے کسی تکلیف کی شکایت کی، فوری طبی جانچ اور علاج فراہم کیا گیا۔ رانا ثناء اللّٰہ نے وضاحت کی کہ آنکھ کے مسئلے کی شکایت جنوری کے پہلے ہفتے میں سامنے آئی، جس پر جیل ڈاکٹر نے ڈراپس تجویز کیے جنہیں چند دن استعمال کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 16 جنوری کو معائنہ ہوا، 19 جنوری کو دوبارہ ٹیسٹ کیے گئے اور 24 جنوری کو انجیکشن لگایا گیا — یہ تمام تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں۔

انہوں نے اپوزیشن کو یقین دہانی کرائی کہ بانیٔ پی ٹی آئی جس ڈاکٹر سے معائنہ کرانا چاہیں، حکومت اس کی سہولت دے گی۔ ان کے بقول، بانیٔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں نجی اسپتال میں داخلے کی درخواست بھی نہیں دی۔اجلاس کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف، راجہ ناصر عباس نے مؤقف اختیار کیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے کیس میں واضح لاپروائی دکھائی دیتی ہے۔ اس پر جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ اگر کہیں غفلت ہوئی بھی ہو تو وہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آئے گی، تاہم حقائق کے برعکس بیانیہ بنانا بھی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ انہوں نے پیشکش کی کہ اگر اپوزیشن چاہے تو تمام طبی دستاویزات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

رانا ثناء اللّٰہ نے زور دیا کہ صحت جیسے حساس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور کہا کہ ایوان پہلے قانون سازی مکمل کرے، بعد ازاں اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی جا سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close