اسلام آباد: رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں اچانک آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ چند ہی دنوں میں سبزی، پھل، اجناس اور دیگر ضروری اشیا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں مہنگائی کی نئی لہر نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ٹماٹر، آلو، تیل، گھی، بیسن، روٹی، انڈے اور پھلوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں صرف چار دن کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 40 روپے فی کلو کا اضافہ ہوا اور یہ 80 سے بڑھ کر 120 روپے فی کلو تک جا پہنچا، جب کہ آلو بھی 40 سے بڑھ کر 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔
بیسن کی قیمت 320 سے بڑھا کر 350 روپے فی کلو کر دی گئی ہے، جب کہ کوکنگ آئل اور گھی بھی فی کلو 20 روپے مہنگے ہو گئے ہیں۔ درجہ اول گھی اور تیل کی قیمت 580 سے بڑھ کر 600 روپے، جب کہ درجہ سوم گھی اور تیل 510 سے بڑھ کر 530 روپے فی کلو ہو گیا ہے۔ روٹی اور نان کی قیمتوں میں بھی اچانک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پانچ روپے اضافے کے بعد روٹی اور نان 25 روپے کے ہو گئے ہیں، خمیری نان 30 روپے، کلچہ 35 روپے جبکہ تندوری پراٹھا اور روغنی نان 50 سے بڑھ کر 60 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔
ہوٹلوں میں چائے بھی مہنگی ہو گئی ہے اور ایک کپ چائے کی قیمت 60 سے بڑھا کر 70 روپے کر دی گئی ہے۔ چار دن کے دوران دیسی انڈے بھی 30 روپے فی درجن مہنگے ہو گئے ہیں اور اب دیسی براؤن انڈے 500 روپے فی درجن میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔اسی طرح درجہ سوم سیب 150 سے بڑھ کر 200 روپے فی کلو اور کیلا 140 سے بڑھ کر 180 روپے فی درجن تک پہنچ گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان سے قبل مہنگائی کا یہ طوفان غریب اور متوسط طبقے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے، جب کہ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں پر قابو پانے کے دعوے بے اثر دکھائی دے رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






