ہر پاکستانی شہری پر قرضے کا بوجھ مالی سال 2024-25 میں 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سالانہ فِسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ کے مطابق، پچھلے مالی سال میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو ایک سال میں تقریباً 39 ہزار روپے بڑھا۔
رپورٹ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک جا پہنچا، جس کی بنیادی وجوہات زیادہ سود کی ادائیگیاں اور زرِمبادلہ کی شرح میں تبدیلی ہیں۔ وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا جبکہ قانونی حد 3.5 فیصد ہے، جس سے حکومت نے تقریباً 3 کھرب روپے زائد خسارہ کیا۔
اسی دوران مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 67.6 فیصد سے بڑھ کر 70.7 فیصد ہوگیا۔ مالی سال 2024-25 میں کل وفاقی اخراجات 18.9 کھرب روپے بجٹ کیے گئے، جبکہ 17.2 کھرب روپے اخراجات ہوئے، جس سے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات ہوئے۔ ٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں جو ہدف کا 90.5 فیصد ہیں، نان ٹیکس آمدن 5.1 کھرب روپے، ترقیاتی اخراجات 1.4 کھرب روپے، دفاعی اخراجات 2.2 کھرب روپے اور سود کی ادائیگیاں 8.8 کھرب روپے رہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






