منی بجٹ آئے گا یا نہیں؟ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات جاری

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ آئندہ بجٹ پیش ہونے تک کوئی منی بجٹ متعارف نہیں کرایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے بجٹ حکمتِ عملی سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف قابلِ عمل تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس شارٹ فال کو نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس آمدن میں اضافے کے ذریعے پورا کیا جائے گا، جبکہ آئی ایم ایف کو بھی مزید ٹیکس نہ لگانے پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کے عملی اقدامات پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ صنعتوں کے لیے ٹیکس کی شرح کم کرنے سے متعلق تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں نئی صنعتی پالیسی کے تحت مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کا امکان ہے۔ مجوزہ اصلاحات کے مطابق چار برسوں میں سپر ٹیکس کی شرح کم ہو کر 5 فیصد تک لائی جا سکتی ہے، جبکہ پرائمری بیلنس سرپلس کی صورت میں پانچویں سال سپر ٹیکس کے خاتمے کا امکان بھی موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے کم از کم آمدن پر سپر ٹیکس کا تھریش ہولڈ 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کے لیے حد 50 کروڑ سے بڑھا کر 1.5 ارب روپے مقرر کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close