فیڈرل فلڈ کمیشن نے دریائے کابل اور اس کے معاون ندی نالوں میں فلیش فلڈ کے خدشے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 21 سے 24 جنوری کے دوران ایک طاقتور مغربی سسٹم ملک کے بالائی علاقوں کو متاثر کرے گا جس کے باعث خیبر پختونخوا اور کشمیر میں شدید بارشوں اور برفباری کا امکان ہے۔ اس موسمی صورتحال کے نتیجے میں 22 اور 23 جنوری کو دریائے کابل میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
سیلابی صورتحال کے خطرے کے پیشِ نظر سوات، چترال، دیر، مالاکنڈ اور مانسہرہ سمیت متعدد اضلاع کے لیے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات مکمل کریں۔ ان اقدامات کا مقصد انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا اور سرکاری و نجی املاک کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھنا ہے تاکہ سیلابی ریلوں کی صورت میں بروقت امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔
محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں مکمل رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔ فیڈرل فلڈ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے اور ندی نالوں میں اچانک طغیانی کے امکانات موجود ہیں، اس لیے تمام ادارے الرٹ رہیں۔ کمیشن نے صورتحال کی کڑی نگرانی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مقامی آبادی کو بھی محتاط رہنے کی تاکید کی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






