بچوں میں آنکھ کے کینسر کی تشخیص میں تاخیر تشویشناک ہے، ڈاکٹر طیب افغانی

راولپنڈی (پی این آئی) الشفاء ٹرسٹ کے سینئر کنسلٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر طیب افغانی نے کہا ہے کہ آنکھوں کے کینسر میں مبتلاء بچوں کے علاج میں سب سے بڑا چیلنج تشخیص میں تاخیر ہے۔

بہت سے والدین اور یہاں تک کہ عام ڈاکٹر بھی بچوں کی آنکھوں میں کینسر کی ابتدائی علامات سے ناواقف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس مسئلے کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب کینسر پھیل چکا ہوتا ہے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنکھوں کے ماہرین کی کمی کی وجہ سے دیہی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ایک اور اہم مسئلہ علاج کے اخراجات کا ہے۔ بہت سے خاندان علاج کے متحمل نہیں ہو سکے، جس میں کیموتھراپی اور ریڈی ایشن تھراپی شامل ہیں جس کا خرچہ تین لاکھ روپےسے آٹھ لاکھ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔جینیاتی مسائل بھی بچوں میں کینسر کی ایک وجہ ہےجس کے لیے والدین کی جینیاتی جانچ ضروری ہے۔

ڈاکٹر طیب افغانی نے بتایا کہ الشفاء ٹرسٹ انکھوں کے کینسر میں مبتلا بچوں کا سارا علاج مفت کیا جاتا ہے جوعطیہ دہندگان کے فراخدلانہ تعاون اور ٹرسٹ کی انتظامیہ کی جانب سے مفت علاج کے عزم کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ الشفاء آئی ہسپتال راولپنڈی میں واقع آئی کینسر سنٹر ملک کا واحد ادارہ ہے جو کینسر کےپیچیدہ کیسوں کو ہینڈل کر سکتا ہے۔اس میں ایک سال سے پندرہ سال تک کے بچوں کو رجسٹر کیا جاتا ہے ۔الشفاء آئی کینسر سنٹر میں گزشتہ چار سال میں 7500 کیس جسٹر کئے گئے ہیں جن میں سے تین ہزار اپنا علاج کامیابی سے مکمل کر اچکے ہیں اور باقی مریضوں کا مرحلہ وار علاج کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر طیب افغانی نےکہا کہ آنکھوں کا کینسر میں مبتلا افراد میں سے 85 سے 87 فیصد بچے ہوتے ہیں جبکہ کچھ کو پیدائشی کینسر ہوتا ہے جبکہ ہمارے پاس کامیابی کی شرح 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ڈاکٹر طیب افغانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے کیسز اس وقت تک تشخیص نہیں ہو پاتے جب تک کہ کینسر ایڈوانس سٹیج تک نہ پہنچ جائےجس سے کامیاب علاج کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔والدین اور عام ڈاکٹر ابتدائی علامات کو پہچان نہیں پاتے ہیں کن میں سفید پُتلی، آنکھیں کراس کرنا، بینائی میں کمی، سرخی اور سوجن شامل ہیں۔ ان علامات کو بوقت پہچاننے سے کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں میں آنکھوں کے کینسر پر قابو پانے میں بنیادی چیلنجوں میں ناکافی سہولیات، ماہرین کی کمی اور علاج کی زیادہ لاگت شامل ہیں جو بہت سے لوگوں کو بروقت اور موثر علاج سے محروم رکھنے کا سبب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آگاہی مہمات اور اسکریننگ سے کیسز کا بروقت پتہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ کینسر سے متاثرہ بچوں کے علاج کے لئے سرکاری اور نجی شعبےکو مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close