آزاد کشمیر کے شہری موبائل فون کے ذریعے وزیراعظم تک براہ راست شکایات پہنچاسکیں گے ، آزاد جموں وکشمیر انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نےسٹیزن پورٹل تیار کر لیا

مظفرآباد (پی این آئی) آزادکشمیر حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانے کے حوالے سے اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے ۔ آزاد جموں وکشمیر انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نےایک ایساسٹیزن پورٹل تیار کر لیا ہے جس کے ذریعے آزادکشمیر کے شہری اب مظفرآباد اور اسلام آبادکے چکرلگانے کے بجائے اپنے موبائل فون کے ذریعے وزیراعظم آزادکشمیر کوبراہ راست شکایات کرسکیں گے ۔وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان جلد پورٹل کا افتتاح کریں گے ۔

وزیراعظم آزادکشمیر کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و آر کیالوجی چوہدری محمد اقبال نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کشمیر ہاوس اسلام آباد میں سیٹیزن پورٹل کی تیاری سے متعلق بریفنگ دی ۔وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو بتایا گیا کہ اس یوزر فرینڈلی پورٹل کے ذریعے عوام کی وزیراعظم تک براہ راست رسائی کو ممکن بنایا گیاہے ۔ سیٹیزن پورٹل میں ویب بیسڈ اور ایپلی کیشن دونوں آپشن رکھے گے۔ کوئی بھی شہری اپنے رجسٹرڈ انڈرائیڈ فون سے ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کر کے شکایت کی جاسکے رجسٹرڈ کروا سکے گا۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے متعلقہ محکمہ جات کو بھی شکایات کی جاسکیں گئیں۔ اس موقع پر وزیراعظم سیکرٹریٹ کی آئی ٹی ٹیم بھی موجود تھی۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سٹیزن پورٹل فری آف کاسٹ تیار کیا گیا ہے اس پر آزاد حکومت کے کوئی اخراجات نہیں آئے۔اس کےافتتاح کے بعد ۔ آزادکشمیر کے دور افتادہ علاقوں سے مظفرآباد اور اسلام آباد آ کر اپنی شکایات جمع کروانے والے شہریوں کیلئے وقت اور پیسہ کی بچت کے ساتھ یہ آسانی ہو گی کہ وہ گھر بیٹھے ویب سائٹ اور ایپلیکیشن کے ذریعے اپنی شکایات متعلقہ ذمہ داران تک پہنچا سکیں گے۔ پورٹل میں شکایات کو سننے اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے ٹائم فریم کا تعین کیا گیا ہے جس کی مانیٹرنگ کیلئے باقاعدہ نظام وزیراعظم آفس میں قائم کیا جائے گا تاکہ شکایات کا عملا ازالہ ہو اور عوام کو ریلیف مل سکے۔ ماضی میں وزیراعظم پاکستان شکایات پورٹل پر فیک شکایات کے پیش نظر وزیراعظم آزادکشمیر کے اس پورٹل میں رجسٹریشن کا آپشن رکھا گیا ہے تاکہ فیک شکایات کا تدارک ہو اور جائز شکایات کا ازالہ ممکن ہوسکے۔ شکایات صرف رجسٹرڈ موبائل نمبر اور آئی ڈی کارڈ سے ممکن ہو سکیں گی۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں