راجہ ریاض نے پہلی مرتبہ عمران خان حکومت کا خاتمے کی وجہ بتا دی، کھل کر میدان میں آگئے

اسلام آباد (پی این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن راجہ ریاض نے کہا ہے کہ عمران خان اس ایوان میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی بجائے بھاگ گیا، ہم یہ کردار بھرپور انداز میں نبھائیں گے، تحریک انصاف کی حکومت عمران خان کی نااہلی اور اتحادیوں کے ساتھ چھوڑنے کی وجہ سے ختم ہوئی۔

 

بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر راجہ ریاض نے کہا کہ اس حکومت کے خاتمے میں کسی پی ٹی آئی رکن کا کردار نہیں اس کے اتحادی اس کو چھوڑ گئے، اس کی نااہلی کی وجہ سے اس کی حکومت ختم ہوئی ہے، اپوزیشن کی نشستوں پر ہمیں عمران خان نے بٹھایا، ہم نے ووٹ نہیں دیا ہمیں کہا گیا کہ ایوان میں نہیں جانا ہم نہیں گئے،لیکن عمران خان یہاں سے بھاگ گیا۔جویریہ ظفر آہیر نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی نہیں چھوڑی، یہ خود میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، عمران خان آئین، قانون اور خواتین کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں، خان صاحب اپنی بیوی اور اس کی سہیلی کا دفاع کر رہے ہیں، ہم بھی کسی کی بیٹیاں ہیں، ہم نظریہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 

انشا اللہ تاریخ ہمیں سنہری الفاظ میں یاد رکھے گی۔ جویریہ ظفر آہیر نے کہا کہ میری اخلاقی اور سیاسی تربیت اجازت نہیں دیتی کہ میں لوٹے جیسا لفظ استعمال کروں کیونکہ ہم سیاست عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاضل ارکان یہاں آئین کی کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں۔ یہ اس وقت کہاں تھے جب یہاں آئین کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آج عمران خان اس عدلیہ پر تنقید کر رہے ہیں جس عدلیہ نے انہیں صادق اور امین کا لقب دیا ہے۔ وہ اپنے ٹائیگرز کی جس طرح تربیت کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ مسجد نبوی میں جو کچھ ہوا وہ سارے جہاں نے دیکھا ہے۔ خان صاحب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ وہ اپنی بیوی اور اس کی سہیلی کا دفاع کر رہے ہیں، میں اور نزہت پٹھان کسی کی بیٹیاں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے بچے باہر ہیں دوسروں کو یہ طعنہ نہ دیں۔ ہم اپوزیشن کا حصہ ہیں ہم ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ چلیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بغیر ثبوت کے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتا پھرے۔ ہم نے پی ٹی آئی نہیں چھوڑی یہ خود میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ عمران خان یہ کہتے تھے کہ کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے مگر یہ خود لیٹ گئے۔ تنقید اخلاقیات کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کی جائے۔انہوں نیقوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ باشعور قوم ہیں، کسی کی بھی اندھی تقلید نہ کریں۔ ہم آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نئی نسل کو تمسخر نہ سکھائیں۔ ہمارے بارے میں جو مرضی ہے کہتے رہیں اللہ حق سچ کا ساتھ دیتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں