بھارت کی آبی جارحیت میں شدت، دریائے چناب میں بغیر اطلاع سیلابی ریلا چھوڑ دیا گیا

بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تازہ ترین واقعے میں بھارت نے ایک بار پھر دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا، مگر اس بار کسی پیشگی اطلاع کے بغیر۔

مودی سرکار نے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے، جس کے نتیجے میں 8 لاکھ کیوسک پانی کا شدید ریلا دریائے چناب کے ذریعے پاکستان کی حدود میں داخل ہو گیا ہے۔

یہ سیلابی ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پہنچے گا، جس سے نہ صرف انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ پہلے سے متاثرہ پنجاب کے کئی علاقوں میں مزید تباہی کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ہیڈ خانکی، قادر آباد اور پنجند کے مقامات پر بھی صورت حال مزید بگڑنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل بھی بھارت نے 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی پاکستان کی طرف چھوڑا تھا۔ اگرچہ ان مواقع پر اطلاع دی گئی تھی، لیکن وہ بھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آخری وقت میں سفارتی ذرائع سے دی گئی، جس کے باعث پاکستان مؤثر حفاظتی اقدامات نہیں کر سکا۔

تاہم اس بار بھارت نے بغیر کسی اطلاع کے پانی چھوڑا ہے، جو نہ صرف معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ ممکنہ طور پر انسانی جان و مال کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔ سیالکوٹ، گوجرانوالہ، مظفر گڑھ، خانیوال، پنڈی بھٹیاں، حافظ آباد، چنیوٹ، شورکوٹ اور گردونواح کے علاقوں میں خطرے کی سطح مزید بلند ہو گئی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close