طویل انتظار کے بعد فواد عالم کی قومی ٹیم میں شمولیت، گرین سگنل مل گیا


لاہور (پی این آئی ) طویل انتظار کے بعدفواد عالم کی قومی ٹیم میں شمولیت، گرین سگنل مل گیا،مصباح الحق نے تصدیق کردی ہے کہ وکٹ کیپر بیٹسمین انگلینڈ ٹور کیلئے قومی سکواڈ کا حصہ ہوں گے ،اظہرعلی کا کہنا ہے کہ سنٹرل کنٹریکٹ سے محرومی کے باوجود فواد عالم ٹیسٹ ٹیم کی پلاننگ میں بدستورشامل رہیںگے۔

تفصیلات کے مطابق رواں سال انگلینڈ ٹور کیلئے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد اور مڈل آرڈر میں کھیلنے والے فواد عالم کو انگلینڈ ٹور کیلئے گرین سگنل مل گیا ہے اور امید ہے کہ انہیں پاکستانی ٹیم کی ایک بار پھر نمائندگی کا موقع مل سکتا ہے ۔چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے تصدیق کی ہے کہ سرفراز احمد جولائی میں انگلینڈ جانیوالے گرین شرٹس سکواڈ میں شامل ہونگے ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ انگلینڈ کے دورے پر 25 سے 27 کھلاڑیوں پر مشتمل وسیع سکواڈ لے کر جانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس متبادل کھلاڑیوں کو طلب کرنے کا آپشن نہیں ہوگا اور دورے پر تمام کھلاڑیوں کو یکجا رکھنا ہے تاکہ ان میں سے کوئی بھی وائرس کا شکار نہ ہو سکے ۔مصباح الحق کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ میں آنیوالی ہے کہ انہیں دورے پر کم از کم دو وکٹ کیپرز درکار ہونگے کیونکہ موجودہ حالات میں انجریز کی صورت میں ان کے پاس متبادل پلیئرز کا آپشن موجود نہیں ہوگالہٰذا سرفراز احمد لازمی طور پر ٹیم میں شامل ہوں گے ۔چیف سلیکٹر نے سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹس کی قیادت سے ہٹائے جانے پر اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ وقت کیساتھ سرفراز احمد پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا اور ان کی ذاتی کارکردگی متاثر ہو رہی تھی لہٰذا انہیں قیادت سے الگ کر کے انہیں بریک دیا گیا تاکہ وہ مناسب آرام کے بعد مضبوط انداز سے کم بیک کر سکیں۔انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ وکٹ کیپر بیٹسمین نے اپنی فٹنس اور کھیل پر سخت محنت کی ہے جس کے باعث وہ قومی ٹیم کی مستقبل کی پلاننگ کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب ٹیسٹ کپتان اظہرعلی کا کہنا ہے کہ فواد عالم نے ٹیم سے باہر ہونے کے باوجود اپنی محنت کا سلسلہ جاری رکھا اور آخر کار ایک بار پھر ٹیم میں واپسی ممکن بنانے والے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ بائیں ہاتھ کے بیٹسمین اب بھی قومی ٹیم کا حصہ ہیں اور پورا یقین ہے کہ جب بھی انہیں موقع ملا تو وہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین کھیل پیش کریںگے ۔



اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں