ٹک ٹک اسٹار عادل راجپوت کے انتقال کی جھوٹی خبر پھیلانے کے حوالے سے اہلیہ نے وضاحت دیدی


رحیم یار خان (پی این آئی)ٹک ٹک اسٹار عادل راجپوت کے انتقال کی جھوٹی خبر پھیلانے کے حوالے سے اہلیہ نے وضاحت دیدی، شوہر حادثے کے بعد کئی گھنٹے بے ہوش رہے، دیور کو کچھ سمجھ نہیں آیا گھر کال کی اور کہا بھائی فوت ہوگئے ہیں، ٹک ٹک اسٹار عادل راجپوت کے انتقال کی جھوٹی خبر پھیلانے کے حوالے

سے اہلیہ کی وضاحت۔ تفصیلات کے مطابق رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے مشہور ٹک ٹاکر عادل راجپوت کے انتقال کی جھوٹی خبر کے حوالے سے اہلیہ نے وضاحت جاری کی ہے۔ٹک ٹاک پر جاری کی گئی ویڈیوز میں عادل راجپوت کی اہلیہ نے بتایا ہے کہ اس کا شوہر حادثے میں شدید زخمی ہو جانے کے بعد بے ہوش ہوگیا تھا۔ شوہر عادل راجپوت کئی گھنٹے تک بے ہوش رہا۔ اس صورتحال میں دیور کو کچھ سمجھ نہیں آیا اور وہ سمجھا کہ بھائی کا انتقال ہوگیا ہے۔ دیور نے گھر کال کی اور کہہ دیا کہ بھائی فوت ہوگئے ہیں۔عادل راجپوت کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر اس وقت شدید زخمی حالت میں ہیں۔انہیں کئی گھنٹے بعد ہوش آیا۔ واضح رہے کہ منگل کے روز معروف ٹک ٹاکر عادل راجپوت کی اہلیہ کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اس نے بتایا کہ اس کا شوہر ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگیا۔بعد ازاں ٹی وی چینلز نے خبر چلائی کہ عادل راجپوت کے انتقال کی خبر جھوٹی نکلی ہے۔ ٹی وی چینلز کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ خاتون نے محض ٹک ٹاک فالوورز کی تعداد بڑھانے کیلئے اپنے شوہر مشہور ٹک ٹاکر عادم راجپوت کی موت کی جھوٹی خبر پھیلائی۔اس حوالے سے اب عادل راجپوت کی اہلیہ نے ویڈیو جاری کر کے وضاحت کی ہے۔ واضح رہے کہ عادل راجپوت کا شمار ٹک ٹک کے مشہور سٹار میں ہوتا ہے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیوز بناتا ہے۔ دونوں میاں بیوی ٹک ٹاکرز چند ہی مہینوں میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے تھے۔ عادل راجپوت کے ٹک ٹاک پر 2.6 ملین فالورز ہیں جب کہ ان کی اہلیہ کے بھی ٹک ٹاک پر لاکھوں فالورز ہیں۔دونو ں کی حقیقی جوڑی کو ٹک ٹاک پر بہت پسند کیا جاتا ہے۔ تاہم اتنی شہرت کے باوجود منگل کے روز عادل راجپوت کے انتقال کی جھوٹی خبر دینے کے بعد جوڑی شدید تنقید کی زد میں رہی۔ اب وضاحت دینے کے باوجود لوگ ٹک ٹاک جوڑی کی بات کا اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کی جائیں اور اگر ٹک ٹاک جوڑی نے جان بوجھ کر انتقال کی جھوٹی خبر پھیلائی ہے تو پھر ان کیخلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔



اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں