خواجہ احمد عباس کی ادبی ، فلمی خدمات پر ممبئی کے ماہنامہ ،شاعر، کا خصوصی ایڈیشن، احمد سہیل کی رپورٹ


ترقی پسند ادب پرمعروف ادیب خواجہ احمد عباس ممبئی کے ادبی جریدے ماہنامہ ” شاعر” نے ماہ جنوری میں خصوصی ایڈیشن شائع کیا ہے، جس میں خواجہ احمد عباس کا دلچسپ ناولٹ ،تین پہیے، ایک پرانا ٹب ،اور ،دنیا بھر کا کچرا” ،جو شاعر کے ناولٹ نمبر میں 05سال پہلے شائع ہوا تھا۔ اس شمارے میں خواجہ احمد

عباس کی نایاب تصاویر بھی شامل ہیں۔خواجہ احمد عباس 7 جون 1914ء میں پانی پت ہندوستان میں پیدا ہوئے۔خواجہ احمد عباس کی شخصیت بین الاقوامی سطح پر شہرت کی حامل ہے جو اُردو، ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ خواجہ صاحب ایک مستند اوراعلیٰ درجے کے جرنلسٹ،کالم نگار،فلم میکر، فلم ڈائریکٹر، فلم پروڈیوسر،ممتازافسانہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ نگار،سوانح نگار اورمضمون نگار تھے، ادیب اور تنقید نگار کہتے ہیں میں ایک اخبارچی ہوں،جرنلسٹ کہتے ہیں کہ میں ایک فلم والا ہوں، فلم والے کہتے ہیں میں ایک سیاسی پروپیگنڈٹسٹ ہوں، سیاست داں کہتے ہیں کہ میں کمیونسٹ ہوں،کمیونسٹ کہتے ہیں کہ میں بورژوا ہوں۔۔۔ سچ یہ ہے کہ مجھے خود نہیں معلوم کہ میں کیا ہوں۔ ‘‘(آئینہ خانے میں، مطبوعہ، افکار، کراچی، دسمبر، 1963)۔ خواجہ احمد عباس کو غیر اردو داں حضرات صحافی، فلم سازاور اسکرپٹ رائٹرکے علاوہ ’دھرتی کے لال‘ میںبلراج ساہنی اور ’سات ہندوستانی ‘ میں امیتابھ بچن کو بریک دینے والے کی حیثیت سے یاد رکھنے کے علاوہ راج کپور کے لیے بے حد کامیاب فلمیں لکھنے والے کہانی کار کے اعتبار سے بھی جانتے ہیں ۔ لیکن اردو کی دنیا میں بطور فکشن نگار اُن کی حیثیت مسلم ہے۔ انھوں نے نو ناول تحریر کیے۔ جن میں ’ ایک ٹب اور دنیا بھر کا کچرا‘، ’دوبوند پانی‘، ’تین پیسے‘، چار دل چار راہیں‘، ’سات ہندوستانی‘، انقلاب‘، فاصلہ‘، ’بمبئی رات کی بانہوں میں‘ ، ’اندھیرا اجالا‘ اور میرا نام جوکر‘ہیں۔ ’دوبوند پانی‘ راجستھان کے پس منظر میں پانی حاصل کرنے کی کوششوں پر مبنی ناول ہے ۔ ’سات ہندوستانی ‘چھوٹا سا ناول ہے جس میں گُوا کی تحریک آزادی کو محور میں رکھ کرہندوستان کے مختلف مذاہب اورمختلف لسانی خطوں کے تعصبات کوختم کرکے انھیں متحد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان دونوں ناولوں پر انھیں قومی یک جہتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ ’اندھیرا اجالا‘ میںحقیقت پسندی کو خوبی سے پیش کیا گیاہے۔ اور ’انقلاب ‘آزادی کی جد وجہد کی داستان پر مبنی ان کا ضخیم ناول ہے جو پہلے انگریزی میں شائع ہواتھابعد کو اردو میں ترجمہ کیا۔ اس ناول کو خواجہ صاحب کے ذاتی تجربے کی شمولیت اور عصری حسیت نے بے حد اہم بنادیا ہے۔یہ ایک بہترین ترجمہ ہے۔ خواجہ احمد عباس نے متعدد شعبوں میں طبع آزمائی کی اور ہر جگہ اپنی یادگار چھاپ چھوڑی۔خواجہ احمد عباس وہ شخصیت ہیں جنھوں نے مشہور فلم ادا کار’امیتابھ بچن ‘ کو پہلی باراپنی فلم ’سات ہندوستانی ‘میں موقع دے کر فلمی دُنیا کو ایک انمول ہیرے سے متعارف کرایا جو پچھلی نصف صدی سے فلمی دنیا میں جگمگا رہا ہے۔ خواجہ صاحب ایک سچے نیشنلسٹ،ترقی پسنداور پختہ فکر ادیب تھے جو فلمی دُنیا میں ’ماموں جان ‘کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اُنھوں نے اُردو ہندی اور انگریزی میں 74 کتابیں لکھی ہیں، جن میں 11 افسانوی مجموعہ، متعدد ناول،ڈرامے اور مضامین۔ ایک خودنوشت انگریزی میں “I am not

an island” ایک سفر نامہ ’مسافر کی ڈائری ‘اور دیگر کچھ تصانیف شامل ہیں۔خواجہ صاحب نے1936 میں اخبار ’بمبئی کرانیکل ‘سے وابستہ ہو کر صحافی اور ادبی کیرئیر کا آغاز کیا بعد میں اپنا اخبار”Aligarh Opnion” بھی نکالا۔ 1947 کے بعد ہفت روز اخبار ’بلٹز‘سے وابستہ ہوئے جہاں وہ ’لاسٹ پیچ‘آخری عمر تک لکھتے رہے جس سے انھیں کافی شہرت ملی۔خواجہ صاحب نے کئی بین الاقوامی شخصیات کے انٹرویوز بھی کیے جن میں امریکی صدر ’روزویلٹ‘ اور روسی وزیر اعظم ’خروشیف‘بھی شامل ہیں۔ انہیں کئی ایوارڈ ملے جن میں نیشنل ایوارڈ میں بھی شامل ہے۔جن ہندوستانی فلموں کے لیے خواجہ احمد عباس نے فلم سازی،کہانیاں،منظر نامے،ہدایت کاری اور مکالمہ نگاری کی ان کی کُل تعداد62 ہے۔یہ وہ فلمیں ہیں جوہر اعتبار سے کمال کی فلمیں تسلیم جاتی ہیں۔1941ء سے1991ء تک ایک لمبی فہرست ہے کہ جس میں خواجہ احمد عباس کی فلمی کارکردگی ہندوستانی سینماکی تاریخ میں ایک تہلکہ مچا چکی ہیں۔ خواجہ صاحب کی وفات کے بعد بھی ان کی کہانیوں کو فلمایا گیا۔یکم جون 1987ء کو یہ نابغہ روزگار72 سال کی عمر میں شہر ممبئی میں اس جہانی فانی سے رخصت ہو گیا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں