کورونا پازیٹو ہونیوالا ہر شخص کورونا نہیں پھیلاتا،علامات ظاہر نہ ہوں تو وائرس نہیں پھیلتا، نیا انکشاف


اسلام آباد (پی این آئی) کورونا پازیٹو ہونیوالا ہر شخص کورونا نہیں پھیلاتا،علامات ظاہر نہ ہوں تو وائرس نہیں پھیلتا، نیا انکشاف….معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پازیٹو مریضوں کا مطلب یہ نہیں کہ بیمار ہیں، میں زیادہ گھومتا پھرتا ہوں، ہوسکتا ہے میرا ٹیسٹ بھی مثبت آجائے،ایک شخص پازیٹو ہے

لیکن علامات نہیں ،مطلب وہ وائرس نہیں پھیلا رہا،کیونکہ جب تک وہ چھینکے گا نہیں وائرس کیسے پھیلائے گا؟ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں وائرس پھیلنا تو ہے، اس میں کوئی شک نہیں، کیونکہ وائرس کو ختم نہیں کیا جاسکتا، احتیاط سے اس کی تیزی کو آہستہ کیا جاسکتا ہے۔پاکستان میں پچھلے دو ہفتوں سے کیسز اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔اس وقت اموات کی شرح یومیہ 65 اور 70کے درمیان ہے۔ اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ہمیں اموات بڑھنے پر حیرانی نہیں ہے، کیونکہ یہ متوقع تھا، اور اموات بڑھنی ہیں وہ اس لیے کہ ابھی پیک نہیں آئی،ہم صرف احتیاط کر سکتے ہیں۔پنجاب میں ہونے والی اسٹڈی کا مجھے زیادہ پتا نہیں، پنجاب میں جو بھی نتائج ہیں ان پر کوئی حیرت نہیں ہے۔جب بھی کوئی متعدی مرض پھیلتا ہے، تو لوگ متاثر ہوتے ہیں، جب لوگ متاثر ہوتے ہیں تو ان کی باڈی ردعمل دیتی ہے، انسان کا مدافعتی نظام وائرس کو کھا جاتا ہے۔ پازیٹو مریض کا مطلب یہ نہیں کہ بیمار ہیں، ان کے اندر مدافعت پیدا ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک مریض کے قریب زیادہ بیٹھیں گے تو بیمار ہونے کے چانسز زیادہ ہیں۔ ایک اینٹی جن ہوتی ہے، ایک اینٹی باڈی ہوتی ہے۔جس شخص میں علامت نہیں لیکن وہ پازیٹو ہے وہ وائرس پھیلا نہیں رہا، کیونکہ جب چھینکتے ہیں تو وائرس تیزی سے باہر جاتا ہے، لیکن اگر کوئی چھینکیں گا نہیں وائرس باہر نہیں جائے گا، اور وہ پھیلائے گا کیسے؟ایک ریسرچ آئی ہے کہ بولنے سے وائرس پھیلتا ہے، لیکن بہت کم ہے۔ہم اینٹی جن کے ٹیسٹ کرتے ہیں، ہم ہرڈ امیونٹی پر یقین نہیں رکھتے،65 فیصد لوگ متاثرہوئے تو ہم کہیں گے کہ ہرڈامیونٹی ہوگئی۔ہرڈ امیونٹی کا مطلب یہ ہے کہ مجھے بیماری ہے، لیکن آپ متاثر ہیں، آپ میں اگر امیونٹی ہے تو آپ متاثر نہیں ہوں گے۔اگر میرا ٹیسٹ کروائیں ، ہوسکتا ہے ، مثبت آجائے، کیونکہ میں جتنا لوگوں میں جاتا ہوں، گھومتا پھرتا ہوں، ٹیسٹ مثبت آنے کے امکان ہے، لیکن احتیاط سے اس پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس بیماری کی اچھی بات یہ ہے کہ 85 فیصد لوگ خود ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔وینٹی لیٹر پر صرف2شرح ہے۔اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ویکسین نہیں ہے۔اگر ہم ایس اوپیز پر عملدرآمد کو یقینی بنا لیں تو جن چیزوں پر بندش ہے وہ بھی کھولی جاسکتی ہیں۔



اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں