حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے پرکتنے افراد کو حراست میں لے لیا گیا؟حیران کن تفصیلات آ گئیں


لاہور(پی این آئی) آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے احکامات پر ذخیرہ اندوزی اور دفعہ ایک سو چوالیس پر 2454 مقدمات درج کرکے چار ہزار آٹھ سو سے زائد افراد کوحراست میں لیاجبکہ اٹھاسی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مقدمے درج کیے گئے،کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے صوبہ بھر میں ذخیرہ اندوزوں کے

خلاف88 جبکہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے 2454 جبکہ شہر میں تین سو تہترمقدمات درج کیے گئے۔تفصیلات کے مطابق دفعہ144 کی خلاف ورزی پر 2454 مقدمات کا اندرج کرتے ہوئے4890 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لئے گئے افراد میں سے 89کو وارننگ دے کر چھوڑا گیا، ذخیرہ اندوزی کے 88 جبکہ شہرمیں انتیس مقدمات درج کرتے ہوئے 86 ملزمان کو حراست میں لیا گیا، آئی جی پنجاب نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ڈی پی اوز دفعہ 144کی خلاف ورزی پر ملزمان کے خلاف کارروائیوں کی خود نگرانی کریں فیلڈ ڈیوٹی پر متعین افسر و اہلکاروں کو فیس ماسک، ہینڈ سینیٹائزر سمیت دیگر حفاظتی سامان کی فراہمی میں کوئی کمی نہ آئے۔پولیس ٹیمیں محکمہ صحت اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کورونا کے خلاف جاری اقدامات میں بڑھ چڑھ کی حصہ لیں۔

پاکستان نیوز انٹرنیشنل (پی این آئی) قابل اعتبار خبروں کا بین الاقوامی ادارہ ہے جو 23 مارچ 2018 کو قائم کیا گیا، تھوڑے عرصے میں پی این آئی نے دنیا بھر میں اردو پڑہنے، لکھنے اور بولنے والے قارئین میں اپنی جگہ بنا لی، پی این آئی کا انتظام اردو صحافت کے سینئر صحافیوں کے ہاتھ میں ہے، ان کے ساتھ ایک پروفیشنل اور محنتی ٹیم ہے جو 24 گھنٹے آپ کو باخبر رکھنے کے لیے متحرک رہتی ہے، پی این آئی کا موٹو درست، بروقت اور جامع خبر ہے، پی این آئی کے قارئین کے لیے خبریں، تصاویر اور ویڈیوز انتہائی احتیاط کے ساتھ منتخب کی جاتی ہیں، خبروں کے متن میں ایسے الفاظ کے استعمال سے اجتناب برتا جاتا ہے جو نا مناسب ہوں اور جو آپ کی طبیعت پر گراں گذریں، پی این آئی کا مقصد آپ تک ہر واقعہ کی خبر پہنچانا، اس کے پیش منظر اور پس منظر سے بر وقت آگاہ کرنا اور پھر اس کے فالو اپ پر نظر رکھنا ہے تا کہ آپ کو حالات حاضرہ سے صرف آگاہی نہیں بلکہ مکمل آگاہی حاصل ہو، آپ بھی پی این آئی کا دست و بازو بنیں، اس کا پیج لائیک کریں، اس کی خبریں، تصویریں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں شیئر کریں، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو، ایڈیٹر



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں