اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ سگریٹ نہ پیئے، تو آج سے نہیں، بلکہ ابھی سے سگریٹ پینا چھوڑ دیجئے،


تحریر: سلمان فاروق، سینئر اسائنمنٹ ایڈیٹر آپ نیوز ۔۔۔۔
ٹی وی کی نوکری سے گھر چلاتے مجھے پندرہ سال بیت گئے۔ ہر طرح کے موضوعات کو نیوز میں کھل کر اجاگر کیا۔ کبھی سیاست پر بڑی بریکنگز کیں تو کبھی سوشل ایشوز سے بلیٹن کھولا۔ ایک ماہ قبل انسیژن فلمز کے بانی شارق صاحب جب بولے کہ اینٹی سموکنگ پر چھانگلہ گلی میں ایک کمپین اور کانفرنس ہے، آپ نے ضرور آنا ہے اور دوستوں کو بھی لانا ہے۔ یہ ملاقات مجھے اسی وقت اچانک بیس سال پیچھے لے گئی۔آرمی پبلک رحیم یار خان سے انٹر کا امتحان پاس کرنے کے بعد گریجوایشن کیلیے گورنمنٹ کالج لاہور جانا قرار پایا۔ جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے کا مکین، اور گورنمنٹ کالج لاہور جیسی درسگاہ، دل میں ایک انجانا خوف تھا۔ ایسے میں والد صاحب نے بلایا، ہمت بڑھائی اور کہنے لگے۔ “بیٹے، میں نے آپ کو کبھی کسی کام سے منع نہیں کیا۔ لیکن کالج جا کر آپ نے دو کام نہیں کرنے۔” خیال آیا کہ پتہ نہیں کیا کہیں گے۔ بولے، “ایک سگریٹ نہیں پینی، دوسرا شراب کو ہاتھ نہیں لگانا۔ معاشرے میں پھیلی بیشتر برائیوں کا آغاز سگریٹ سے ہی ہوتا ہے۔” ہمیشہ کی طرح ان کی بات پلے سے باندھ کر میں لاہور روانہ ہو گیا۔ خود سے عہد کیا کہ یہ دونوں کام نہیں کروں گا۔ نئی صدی کے عین آغاز پر کیا جانے والا یہ وعدہ آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ کہاں کھو گئے؟ شارق صاحب کی آواز نے مجھے یاد کے اس گرداب سے باہر کھینچ نکالا۔ میں ضرور آؤں گا بھائی، میں نے جواب دیا۔ آخر کار وہ دن بھی آ گیا۔ میں ایک رات پہلے ہی اپنے دوستوں کے ہمراہ لاہور سے اسلام آباد پہنچ چکا تھا۔ عکس ریسٹورنٹ پر زارا، رائلہ اور ایمن نے بہت اچھے سے ریسیو کیا۔ ایس ڈبلیو وی ایل کی ٹرانسپورٹ میں تمام تیس شرکاء کو لے جایا گیا۔ یہ اس کمپنی کے ساتھ سفر کا میرا پہلا اور اچھا تجربہ تھا۔ چھانگلہ گلی پہنچ کر اگلے دو روز مصروف ترین گزرے۔ شارق صاحب، عمران صاحب، جنید اکرم اور فہد ملک صاحب کی طویل گفتگو بھی ہمیں بورنگ نہیں لگی۔ ایسے میں گروپ ایکٹیویٹیز بھی چلتی رہیں، سردی بھی انجوائے کی اور طیب صاحب کی جانب سے سوپ، کھانے اور گرما گرم چائے، پکوڑے اور تازہ بسکٹ سے بھی بھرپور لطف اندوز ہوئے۔ سالانہ کتنے افراد تمباکو نوشی سے جاں بحق ہوتے ہیں، بیماریوں پر کتنے اخراجات اٹھتے ہیں، یہ کینسر کا سبب کیوں ہے، یہ سب تو کتابی باتیں ہیں۔ کسی کو بھی گوگل کرنے پر مل جائیں گی۔ ہم نے بنیادی بات یہ سیکھی کہ تمباکو نوشی کے خلاف مہم ایک دو روز یا چند دنوں کی بات نہیں۔ یہ ایک انداز زندگی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس مہم کو کیسے لے کر چلنا ہے یہ بھی خوب سکھایا گیا۔ اس گروپ ایکٹیویٹی کے دوران ٹیم ورک کی بدولت ٹویٹر ٹاپ ٹرینڈز میں “ٹو بیک آف” کو دوسری پوزیشن بھی ملی جو میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ جنید اکرم اور فہد ملک صاحب نے جو کہا، کر کے دکھایا۔ اس سے ہمیں پتہ چلا کہ ٹیم ورک سے کچھ بھی ممکن ہے، اور یہ کہ سوشل میڈیا کا درست استعمال کیا کر سکتا ہے۔سگریٹ ساز کمپنیوں کا منافع بڑھتا کیسے ہے؟ اس کا جواب ہے سگریٹ شروع کرنیوالے بچوں سے۔ اور یہ تعداد چند سو نہیں، بلکہ روزانہ پاکستان میں چھ سے پندرہ سال کے بارہ سو نئے بچے سگریٹ شروع کرتے ہیں۔ مطلب ایک سال میں چار لاکھ اڑتیس ہزار بچے!!! کانفرنس سے واپس لاہور کیلیے نکلے تو یوں لگا کہ جیسے بیس سال پہلے والد صاحب کی جانب سے بتائی گئی بات آج ہمارے سامنے آ گئی۔ کہ بیٹے، دنیا میں پھیلی برائیوں میں سے زیادہ تر کا آغاز تمباکو نوشی سے ہوتا ہے۔ ہمیں احساس ہوا کہ اب یہ صرف والد کی نصیحت نہیں رہی، بلکہ زندگی کا مشن بن چکا ہے۔ سگریٹ کی لعنت سے صرف خود ہی بچے نہیں رہنا، اپنے چاہنے والوں کو بھی بچانا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ سگریٹ نہ پیئے، تو آج سے نہیں، بلکہ ابھی سے سگریٹ پینا چھوڑ دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پاکستان نیوز انٹرنیشنل (پی این آئی) قابل اعتبار خبروں کا بین الاقوامی ادارہ ہے جو 23 مارچ 2018 کو برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں قائم کیا گیا، تھوڑے عرصے میں پی این آئی نے دنیا بھر میں اردو پڑہنے، لکھنے اور بولنے والے قارئین میں اپنی جگہ بنا لی، پی این آئی کا انتظام اردو صحافت کے سینئر صحافیوں کے ہاتھ میں ہے، ان کے ساتھ ایک پروفیشنل اور محنتی ٹیم ہے جو 24 گھنٹے آپ کو باخبر رکھنے کے لیے متحرک رہتی ہے، پی این آئی کا موٹو درست اور بروقت اور جامع خبر ہے، پی این آئی کے قارئین کے لیے خبریں، تصاویر اور ویڈیوز انتہائی احتیاط کے ساتھ منتخب کی جاتی ہیں، خبروں کے متن میں ایسے الفاظ کے استعمال سے اجتناب برتا جاتا ہے جو نا مناسب ہوں اور جو آپ کی طبیعت پر گراں گذریں، پی این آئی کا مقصد آپ تک ہر واقعہ کی خبر پہنچانا، اس کے پیش منظر اور پس منظر سے بر وقت آگاہ کرنا اور پھر اس کے فالو اپ پر نظر رکھنا ہے تا کہ آپ کو حالات حاضرہ سے صرف آگاہی نہیں بلکہ مکمل آگاہی حاصل ہو، آپ بھی پی این آئی کا دست و بازو بنیں، اس کا پیج لائیک کریں، اس کی خبریں، تصویریں اپنے دوستوں اور رابطہ کاروں میں شیئر کریں، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو، ایڈیٹر



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں