اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کاروباری اورتنخواہ دار طبقے کو بڑی خوشخبری سنا دی


اسلام آباد (پی این آئی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کاروباری اورتنخواہ دار طبقے کو بڑی خوشخبری سنا دی۔ اسٹیٹ بینک نے کورونا وائرس سے متاثر کاروبار کے مالکان کو مزید سہولت دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے قرض دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر کاروبار کو تنخواہ کی ادائیگی میں مزید سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔کاروباری افراد جنہوں نے ملازمین کو تنخواہ خود ادا کر دی ہے ان کو بھی قرضہ فراہم کیا جائے گا۔اسٹیٹ بینک نے 10 اپریل کو ری فننانس اسکیم کا اعلان کیا تھا۔اس سکیم کے تحت کاروباری افراد قرضہ لے سکتے ہیں تاکہ اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کر سکیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق وہ افراد جنہوں نے اپریل میں قرضے کی درخواست دی لیکن وہ منظور نہیں ہوئے یا وہ انتظار میں ہیں اب وہ کاروباری افراد مئی میں کلیم داخل کر سکتے ہیں۔جب کہ وہ افراد جنہوں نے مئی 2020 کی تنخواہ ادا کردی ہے لیکن ان کے قرضے منظور نہیں ہوئے انہیں بھی یہ قرض ملے گا۔دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے تناظر میں سٹیٹ بینک کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی میں ایک سال کی مدت کی سہولت سے اب تک 6 لاکھ سے زائد افراد نے استفادہ کیا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے بتایا کہ 15 مئی تک اس سکیم سے اب تک 6 لاکھ افراد نے استفادہ کیا ہے، اس دوران432 ارب روپے کے قرضوں کی بنیادی رقوم کی ادائیگی موخرکردی گئی ہے، اسی طرح 59 ارب روپے کے قرضوں کی ری شیڈولنگ کی گئی، کورونا وائرس کی وباء کے تناظر میں سٹیٹ بینک نے پاکستان بینکرزایسوسی ایشن کی مدد سے اس سکیم کا اجراء کیا تھا۔ترجمان نے بتایا کہ سکیم سے استفادہ کرنے والوں میں زیادہ تر چھوٹے قرضے لینے والے افراد شامل ہیں جنہوں نے مجموعی طورپر37 ارب روپے کے قرضے موخر/ ری سٹرکچرکئے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ اس وقت قرضوں کوموخرکرنے اورری سٹرکچرنگ کی کل ایک لاکھ درخواستوں کاجائزہ لیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے ریلیف پیکج میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ دیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں