fbpx
A Product of PNI Digital (SMC-Pvt) Limited

معروف سیاستدان کوچیف جسٹس کیخلاف نازیباالفاظ کا استعمال کرنا مہنگا پڑ گیا، پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل ، عہدہ واپس لے لیا گیا


کراچی (پی این آئی) پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے پی ایس 92 (114)کراچی کے جنرل سیکریٹری مسعود الرحمن عباسی کی پارٹی کی بنیادی رکنیت اور پی ایس 92 کی جنرل سیکرٹری کے عہدے سے معطل کردیا ہے۔پیپلز پارٹی ایک عوامی اور جمہوری جماعت ہے پارٹی کے کارکن اور عہدیدار پارٹی کے نظم و ضبط کے پابند ہیں۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر اور وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور غیر ذمہ داران طرز عمل پر پی ایس 92 (114) کے جنرل سیکرٹری مسعود الرحمان عباسی کی پارٹی کی بنیادی رکنیت اور پی ایس میں جنرل سیکرٹری کے عہدے سے انہیں معطل کردیا ہے۔ واضح رہے کہ مسعود الرحمان عباسی کو 3 روز قبل پارٹی کے نظم و ضبط اور ایک تقریب کے دوران غیر ذمہ داران طرز عمل پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے جواب میں مسعودالرحمان عباسی نے اپنی سنگین غلطی کو جذباتی ردعمل قرار دے کر اپنی غلطی تسلیم کی تھی۔ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے ان کے جواب کے بعد ان کی بنیادی رکنیت معطل کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی کارکن اور سٹی ایریا کے جنرل سیکرٹری کے عہدے پر تعینات ہوکر اس طرح کی غلطیاں پارٹی کے نظم و ضبط کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی عہدیدار پر اس طرح کی جذباتی غلطیاں کرے تو وہ کس طرح پارٹی نظم و ضبط کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک عوامی اور جمہوری جماعت ہے پارٹی کے کارکن اور عہدیدار پارٹی کے نظم و ضبط کے پابند ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ پارٹی نے مسعود الرحمن عباسی کو ان کی سنگین غلطی اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل پر ان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت اور پی ایس 92 کے جنرل سیکرٹری کے عہدے سے معطل کردیا ہے اور انہیں پارٹی کے کسی بھی اجلاس میں شرکت کے لئے نااہل قرار دے دیا ہے اور مسعود الرحمن عباسی آئندہ کسی بھی پارٹی اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔یاد رہے کہ پی پی رہنما مسعود الرحمن عباسی نے ایک تقریر کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے جس پر چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے گزشتہ روز سماعت کی اور مسعود الرحمن عباسی سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کئے ۔



اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں