fbpx
A Product of PNI Digital (SMC-Pvt) Limited
تازہ ترین

فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے حوالے سے پارلیمنٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا، حافظ طاہر اشرفی نے واضح کر دیا


اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان علماکونسل کے چیئرمین و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے حوالے سے پارلیمنٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عملدرآمد کیا جائے گا تاہم ملک کی خارجہ پالیسی کسی گروہ ، جماعت یا جتھہ کی مرضی سے نہیں بنائی جا سکتی ، خارجہ پالیسی کیلئے جو فورم ہے وہی اپنا کام کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے علمائے کرائم و مشائخ عظام سے ملاقات کے دوران کیا۔ حافظ طاہراشرفی کا کہنا تھا کہ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کی کامیابی سے ملک میں انتشار پھیلانے والی قوتوں کو ناکامی ہوئی ، پاکستان دشمن عناصر اور فتنہ پرور قتل و قتال چاہتے تھے ، ناموس رسالت و عقیدہ خاتم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، وزیر اعظم عمران خان نے توہین ناموس رسالت اور اسلامک فوبیا کو روکنے کے حوالے سے جن اقدامات کا ذکر کیا ہے وہی مستقل حل ہیں، توہین ناموس رسالت اور اسلامک فوبیا کو روکنے کیلئے رمضان المبارک کے بعد مختلف اسلامی ممالک کی تنظیموں اور قائدین کا اجلاس بلانے کی تجویز ہے۔وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر اور پاکستان دشمن قوتیں ملک میں فساد برپا کرنے کیلئے سر گرم ہو چکی تھیں اور وہ ملک میں قتل و قتال چاہتی تھیں جن کو مذاکرات کی کامیابی سے ناکامی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی مذمت اور فرانس کے سفیر کو نکالنے کے حوالے سے بحث ہو گی ، پارلیمان جو فیصلہ کرے گی حکومت اور قوم قبول کرے گی ۔حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ یہ بات طے ہے کہ خارجہ پالیسی کسی گروہ ، جماعت یا جتھہ کی مرضی سے نہیں بنائی جا سکتی ، خارجہ پالیسی کیلئے جو فورم ہے وہی اپنا کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں کیلئے جگہ مختص کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جانتی ہے کہ پاکستان میں فساد اور فتنہ پیدا کرنے کیلئے کون کون سی قوتیں سر گرم ہیں، محبت وطن سیاسی دینی قوتوں کو انتشار اور فساد کے خاتمے کیلئے مثبت کردار ادا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی چیز خلاف قانون اور آئین نہیں ہو گی اور نہ ہی کی جا سکتی ہے۔ملاقات کرنے والوں میں مولانا اسد اللہ فاروق ،علامہ زبیر عابد ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، علامہ طاہر الحسن ، مولانا محمد شفیع قاسمی، پیر اسعدحبیب شاہ جمالی ، مولانا نعمان حاشر ، مولانا طاہر عقیل اعوان ، مولانا ابو بکر صابری ، مولانا اسلم صدیقی، مولانا اسید الرحمن سعید ، مولانا عبد الحکیم اطہر، مولانا حسان احمد حسینی ،مولانا حبیب الرحمن عابد، مولانا محمد اسلم قادری ، مولانا مبشر رحیمی، قاری شمس الحق اور دیگر بھی موجود تھے۔۔۔۔



اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں