fbpx
A Product of PNI Digital (SMC-Pvt) Limited

جہانگیر ترین کے ساتھ 3 قومی اور 15 صوبائی ارکان اسمبلی، پی ٹی آئی کے اندر پھوٹ پڑ نے کا دعویٰ کر دیا گیا


اسلام آباد(آئی این پی ) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کے ہمراہ تین قومی اور 15صوبائی اسمبلی کے اراکین کی عدالت آمد سے ثابت ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر پھوٹ پڑ گئی ہے۔ جہانگیر ترین کا 53اراکین صوبائی اسمبلی اور ڈیڑھ درجن اراکین قومی اسمبلی کے ہمراہ ہونے کے دعوے کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم اکثریت کھو چکے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی

آئی کے صفوں میں اس انتشار سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تحریک عدم اعتماد کی حکمت عملی درست تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے پی ٹی آئی میں انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان کی حکومت گرانے کی بجائے اسے بچانے کو ترجیح دی۔ مسلم لیگ(ن) نے جان بوجھ کر استعفوں کا شوشہ چھوڑا تاکہ پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑے اور پی ٹی آئی حکومت بچ جائے۔ فیصل کریم کنڈی نے سوال کیا کہ لندن میں بیٹھ کر پیپلزپارٹی پر ڈیل کے الزامات لگانے والے بتائیں کہ ن لیگ نے کس ڈیل کے بعد پی ڈی ایم میں پھوٹ ڈالنے کی سازش تیار کی؟ ۔ نواز شریف نے فضل الرحمان کو پی ڈی ایم کا نمائشی صدر بنایا تھا، جے یو آئی کے ناراض رہنما نے بھانڈا پھوڑ دیا کراچی(آئی این پی) جمعیت علمائے پاکستان کے سینئر رہنما حافظ حسین احمد نے کہاہے کہ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو پی ڈی ایم کا نمائشی صدر بنایا تھا، پی ڈی ایم غیر فطری اور مفاداتی اتحاد تھا، پی ڈی ایم سے فائدہ اٹھانے کے لیے نواز شریف نے ہوشیاری سے کام لیا، پیپلزپارٹی سیاسی انداز میں اپنے معاملات آگے بڑھا رہی تھی، پیپلزپارٹی نے بھی بڑی ہوشیاری سے پی ڈی ایم کو کٹھ پتلی بنادیا تھا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ پی ڈی ایم غیر فطری اور مفاداتی اتحاد تھا، پی ڈی ایم سے فائدہ اٹھانے کے لیے نواز شریف نے ہوشیاری سے کام لیا۔انہوں نے کہا کہ نمائشی صدر ہونے کی وجہ سے فضل الرحمان سے اختلاف کیا تھا، نواز شریف نے اپنے معاملات سیدھا کرنے کے لیے پی ڈی ایم بنائی تھی۔حافظ حسین احمد نے کہا کہ پیپلزپارٹی سیاسی انداز میں اپنے معاملات آگے بڑھا رہی تھی، پیپلزپارٹی نے بھی بڑی ہوشیاری سے پی ڈی ایم کو کٹھ پتلی بنادیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اے این پی نے انتہائی طور پر اپنی سیاست کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے، شوکاز نوٹس تو مسلم لیگ ن اور ان کے رہنماں کو ملنا چاہیے، محمد زبیر ملاقاتیں کرتے تھے انہیں تو کوئی

شوکاز نہیں دیا گیا۔جے یو آئی رہنما نے کہا کہ ن لیگ یقینا بڑی پارٹی تھی لیکن فضل الرحمان کو نمائشی رکھا گیا، پیپلزپارٹی نے بڑی ہوشیاری سے اپنے پتے کھیلے ہیں، ممکن ہے اب نئی سیاسی صف بندی ملک میں رونما ہوجائے۔۔۔۔



اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں