fbpx
A Product of PNI Digital (SMC-Pvt) Limited

چینی اوراس سے بنے مصنوعی مشروبات صحت کے لئے بڑاخطرہ ہیں، سول سوسائٹی الائنس کے شرکاء کاخطاب


راولپنڈی (پی این آئی) پناہ سول سوسائٹی الائنس کااجلاس پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے صدر میجر جنرل (ر) مسعود الرحمن کیانی کی زیر صدارت منعقد ہوا، ان کی معاونت میجرجنرل (ر) اشرف خان اور پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کی، اس موقع پر سابق کمشنر انکم ٹیکس،سابق ممبرصوبائی اسمبلی

تحسین فواد،حفیظ خان،آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے ڈویژنل صدرابراراحمدخان،پاکستان مسلم لیگ(ن)سے نورین مسعود گیلانی،ثمینہ شعیب،پیپلزپارٹی خواتین ونگ کی صدر سمیراگل،جماعت اسلامی راولپنڈی کی سیکریٹری قدسیہ مدثر،سینئر نائب صدر تحریک انصاف نسرین طارق،روحی ہاشمی،کرولی(CROLI)کے صدرماجد بشیر،فلاح سے ڈاکٹرغیور،ایڈووکیٹ علی صدیقی،فاطمہ ٹرسٹ،نجات ٹرسٹ،کڈنی ایسوسی ایشن،طبی وقانونی ماہرین،صحافیوں ودیگر کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر(پناہ) کے صدرمیجرجنرل (ر) مسعود الرحمن کیانی نے کہاکہ غیرمواصلاتی امراض (این سی ڈیز)اس میں دل کے علاوہ دیگربیماریوں میں سے سب سے زیادہ اموات ہورہی ہیں،دنیا اس کی روک تھام کے لئے پریشان ہے،پناہ گزشتہ 36سال سے ان کی وجہ بننے والے عوامل سے متعلق عوام کوآگہی دے رہی ہے،پناہ کاپیغام ہے کہ سادہ غذا،چہل قدمی،ورزش کواپنامعمول بنائیں،تمباکونوشی سے گریز کریں،میٹھے کااستعمال کم سے کم کریں،ان پرعمل کرکے بیماریوں سے کافی حدتک بچاجاسکتاہے۔ میجرجنرل (ر) اشرف خان نے کہاکہ صحت مند رہنے کے لئے بیماریوں کی وجہ بننے والے عوامل سے بچاجائے،پناہ تو36سال سے عوام کی صحت کوبہتربنانے کے لئے کوشاں ہے،آج کے سول سوسائٹی اجلاس کے شرکاء سے درخواست ہے

کہ آپ لوگ بھی اس نیک کام میں ہماراساتھ دیں اورہمارے پیغام کوعام کریں،حکومت سے درخواست کرتاہوں کہ بیماریوں کی وجہ بننے والے عوامل کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات اٹھائے۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے بتایاکہ صحت سے جڑے مسائل پراگربروقت قابونہ پایاگیاتوآنے والے سالوں میں غیرمواصلاتی امراض(این سی ڈیز) میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتاہے،بیماریوں کی وجہ سے لوگوں کی تکالیف کے ساتھ ساتھ حکومت کاہیلتھ برڈن بھی بڑھتاجائے گا،پہلے ہی حکومت کے لئے صحت سے جڑے مسائل پرقابوپانامشکل ہورہاہے،جن ممالک نے ان پرکنٹرول کرنے کی کوشش کی،ان کی پیروی کرتے ہوئے ہم بھی بیماریوں پرقابوپاسکتے ہیں،جیساکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ ساتھ 50 سے زائد ممالک کی تحقیق ہے کہ کسی بھی چیزکی قیمت بڑھانے سے اس کی کھپت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ہماری حکومت کوبھی چاہیے کہ بیماریوں کی وجہ بننے والے عوامل کی فوری روک تھام کرے۔سول سائٹی الائنس کے شرکاء نے کہاکہ موٹاپا کی ایک بڑی وجہ میٹھے کا کثرت سے استعمال ہے اور شوگری ڈرنکس میٹھے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس کی کھپت میں عالمی سطح پربتدریج اضافہ جاری ہے،لہذاچینی اور اس سے بنے میٹھے مشروبات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے،بڑوں کے ساتھ بچوں

میں چینی اورشوگری ڈرنکس (ایس ایس بی)کے استعمال کابڑھتاہوارجحان مہلک امراض کی ایک بڑی وجہ ہیں،ان کے استعمال میں کمی لاکراس سے متعلقہ دائمی بیماریوں جیسے قلبی، جگر، موٹاپا اور ذیابیطس کی روک تھام میں مدد ملے گی،سول سائٹی الائنس کے شرکاء نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کی کہ ہیلتھ لیوی کے نفاذ کویقینی بنائیں۔۔۔۔



اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں