fbpx
A Product of PNI Digital (SMC-Pvt) Limited

اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ کا احوال، سینئر تجزیہ کار ارشاد محمود کا کالم، بشکریہ روزنامہ 92


پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سویلین اور عسکری لیڈرشپ ہی نہیں بلکہ حزب مخالف کے سیاستدان اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے، دو دن تک اسلام آبادمیں ایک چھت تلے سر جوڑ کر، پاکستان کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈائیلاگ کا افتتاع کرتے ہوئے کہا کہ: پاکستان کو محض مضبوط

عسکری قوت ، جدید ہتھیاروںاور ٹیکنالوجی سے لیس فوج کے ذریعے محفوظ نہیں بنایا جاسکتا ۔ ڈاکٹر معید یوسف نے بتایا کہ دنیا اکثر استفسار کرتی ہے کہ کیا سول ملٹری لیڈرشپ ایک صفحے پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ :پاکستان نے اب جس راہ کا انتخاب کیا ہے اس پر حکومت اور تمام ریاستی اداروں کے مابین مکمل اتفاق رائے پایاجاتاہے۔معید یوسف کا یہ کہنا کئی حوالوں سے ضروری تھا کیونکہ ماضی میں دنیا سیاسی حکومتوں کے ساتھ سنجیدہ معاملات پر گفتگو نہیں کرتی تھی کیونکہ انہیں شک ہوتاتھا کہ سویلین حکومت اپنے وعدہ پورے نہیں کرسکے گی۔ڈائیلاگ کے دوسرے دن پاک فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے بے تکلف اور کھلے دل اور دماغ کے ساتھ خطاب کیا۔جنرل باجوہ کی اس تقریر کو بلاشبہ اسی کی دہائی سے جاری پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی میں نوے ڈگری تبدیلی کا مظہر قراردیا جاسکتاہے۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں: مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ کشمیر کے پرامن حل کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی ختم نہیں ہو سکتی۔ بامعنی مذاکرات کے ذریعے امن عمل شروع ہونے کے لیے’’ ہمارے ہمسائے‘‘ کو سازگار ماحول پیدا کرنا ہو گا، خاص طور پرمقبوضہ کشمیر میں۔ پاکستان ہمسایہ ملکوں سے مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل باعزت طریقے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ جنرل باجوہ نے مزید کہا کہ حل طلب مسائل پورے خطے کو غربت میں دھکیل رہے ہیں۔یہ بات افسوس ناک ہے کہ آج بھی یہ خطہ تجارت، تعمیری ڈھانچے، اور توانائی میں تعاون کے شعبوں میں دنیا کے سب سے کم جڑے ہوئے خطوں میں سے ایک ہے۔ یادرہے کہ پچیس فروری کو پاکستان اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ

کیاتھا ۔ جنگ بندی معاہدے کی گونج ابھی باقی تھی کہ جنرل باجوہ نے ایک ہی جست میں خطے میں امن ، استحکام اور علاقائی تجارت کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو عبورکرنے کے عزم کا اظہار کرکے دنیا کو حیرت زدہ کردیا ہے ۔جنرل باجوہ کے عزم اور حوصلے کی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے مشکل ترین حالات میں ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھنے کی بات کی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت جنرل باجوہ کی پیشکش کا کیا جواب دیتاہے؟ جنرل باجوہ کی حالیہ گفتگو بھارت کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر ہونے والی درپردہ مفاہمت کی عکاسی کرتی ہے ۔امید ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا ۔ خاص طور پر گرفتار سیاسی رہنماؤں کی رہائی، سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندی کا خاتمہ، میڈیا کے ساتھ

روا رکھی گئی سخت گیر پالیسی کے خاتمے سمیت جاری فوجی آپریشنزکو معطل کرنے جیسے اقدامات سازگار حالات پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔اگر مقبوضہ کشمیر میں حالات میں نمایاں سدھار نہیں آتا۔قتل وغارت جاری رہتی ہے، تو پاک بھارت تعلقات میں بہتری امید محض دیوانے کی بڑسے زیادہ کچھ نہیں۔کشمیری کنٹرول لائن کے دونوںطرف پانچ اگست کے بعد دکھی اور ناراض ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ پاکستان اور بھارت میں پنپنے والی مفاہمت میں ان کے حقوق اور حق خودارادیت کا مسئلہ دب سکتاہے۔ ریاست تو پہلے ہی تقسیم درتقسیم کا شکار ہے۔ جو معمولی سی کشمیری تشخص کی کہانی باقی ہے وہ بھی کہیں ہاتھ سے نہ نکل جائے۔بے یقینی اور بے بسی کا ماحول کنٹرول لائن کے دونوں طرف چھایا ہوا ہے۔کشمیریوں کو بھارت کے ساتھ متوقع مذاکراتی عمل میں شریک کرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ اس پراسیس کا حال بھی پرویز مشرف کے امن عمل سے مختلف نہ ہوگا۔علاوہ ازیںبے شمار ایسے گروہ متحرک ہوجائیں جو بھارت کے ساتھ کشمیر پر کسی قسم کی مفاہمت کے خلاف ہیں۔ کشمیریوں کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی قبر پر کھڑے ہو کر

بھارت کے ساتھ مفاہمت اور دوستانہ تعلقات استوار کیے جارہے ہیں۔بے وفائی کا احساس اگر کشمیر میں پھیل گیاتوپاکستان کی سات دھائیوں کی محنت خاک میں مل جائے گی۔کشمیریوں میں یہ خدشہ بھی پایا جاتاہے کہ پاک بھارت مذاکرات شروع ہونے سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر جس قدر اجاگر کیا گیا تھا وہ محنت رائیگاں چلی جائے گی اور عالمی برادری کی ساری توجہ پاک بھارت مذاکرات پر مرکوز ہو گی۔ اس دوران بھارت کشمیر میں پانچ اگست کے بعد والی صورت معمولی پر لانے کے اقدامات کرے گا اور مسئلہ کشمیر کا پرنالہ وہاں کاوہی بہتا رہے گا۔ابھی تک بھارت کی طرف سے جنرل باجوہ کے بیان پر سرکارسطح پرقابل ذکر جوش وخروش کا مظاہرہ نہیں کیا گیابلکہ خاموشی چھائی ہوئی ہے۔البتہ پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی مہم رک چکی ہے اور پاک بھارت تعلقات میں آنے والی بہتری کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ رائے عامہ پاکستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی مخالفت نہ کرے۔پاکستان مخالف ٹی وی شو نہیں ہورہے ہیں اور بی جے پی کے لیڈروں کی زبانوں کو بھی لگادی جاچکی ہے۔امکا ن ہے کہ اگلے چند ہفتوں یا دنوں میں بھارت مقبوضہ کشمیر کے اندر سازگار حالات پیداکرنے کے لیے کوئی قدم اٹھائے گا۔بعض بھارتی

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اور پاکستان دونوں کے ساتھ بیک وقت دشمنی اور محاذ آرائی کے بجائے بہتر ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرلیے جائیں۔ جناب معید یوسف نے سیکیورٹی ڈائیلاگ شروع کرواکر پاکستان کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیاہے۔ انہیں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے کم ازکم انہوں نے مشکل مسائل اور درپیش قومی چیلنجز پر قومی سطح پر مکالمے کے خواب کو حقیقت کا رنگ دیا۔ اگرچہ متحارب نظریاتی اور سیاسی فکر کے راہ نما ابھی تک ایک نشست میں مکالمہ نہیں کرسکے لیکن اتنا تو ہوا کہ پاکستانی لیڈرشپ نے دنیا کے سامنے مختلف موضوعات پر اپنے نقط نظر کااظہار تو شروع کردیا۔



اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں